امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 14
21 ہے اور وہ جھوٹ بات تم اس کے سر تھوپ رہے ہو تو یہ تم نے اس پر بہتان لگا یا نا! اس لیے تمہیں چاہیے کہ لوگوں کا ذکر ان کی غیر موجودگی میں ہمیشہ بھلائی کے ساتھ کیا کرو۔ورنہ خاموش رہا کرو۔میں تمہیں بتا رہی تھی کہ حضرت امام ابو حنیفہ کبھی بھی غیبت نہیں کرتے تھے۔آپ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اس نے آپ کی زبان کو اس گناہ سے پاک رکھا۔ایک دن ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ حضرت ! لوگ آپ کو اتنا بُرا بھلا کہتے ہیں مگر ہم نے کبھی آپ کی زبان سے کسی کی بُرائی نہیں سنی۔آپ نے فرمایا: یہ بھی خدا کی مہربانی ہے۔در حقیقت یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی تھی ہمارے پیارے امام ابو حنیفہ پر کہ اس نے آپ کو اتنا علم دیا۔ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمارے امام ابو حنیفہ کو توفیق دی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کیے گئے علم کے اس تحفہ سے نہ صرف ان لوگوں کی خدمت کی جو اُن کے دور میں موجود تھے بلکہ آنے والے ہر دور کے انسانوں میں بھی انہوں نے اپنے علم کے اس خزانے کو بانٹ دیا۔اللہ میاں ہمیں اپنے بزرگوں جیسا بنے اور ان کی تعلیمات سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔(آمین ) (ختم شد)