امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 13
20 19 بھائی! یہ میرا گھر ہے تم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کہہ ڈالو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میں گھر میں رہتا تھا۔یہ موچی سارا دن تو اپنا کام کرتا اور رات کے وقت اپنے سارے دوستوں کو اپنے میں درس دے رہے تھے۔ایک شخص آپ کا دشمن تھا۔اس نے سب لوگوں کے سامنے آپ کو جمع کر لیتا۔سب مل کر شراب پیتے اور اُلٹے سیدھے گانے گاتے شور مچا مچا کر۔اب بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔امام صاحب نے کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنے شاگردوں کو بھی منع دیکھو۔امام صاحب جو کہ ساری رات خدا تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے انہیں کس قدر کیا کہ اسے کچھ نہ کہیں۔آپ درس دے کر واپس گھر آنے کے لیے روانہ ہوئے تو وہ شخص تکلیف ہوتی ہوگی مگر آپ نے کبھی بھی موچی کو بُرا بھلا نہ کہا۔بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا اور مسلسل جو منہ میں آیا کہتا رہا۔امام صاحب جب اپنے گھر کے بچو! ایک دن کو تو ال شہر گشت پر نکلا۔اس نے جب شور وغل کی آواز سنی تو وہ موچی کو قریب پہنچے تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا:۔پکڑ کر لے گیا اور سزا کے طور پر اسے قید خانہ میں ڈال دیا۔دوسرے دن جب موچی کی آواز نہیں آئی تو آپ پریشان ہو گئے کہ کہیں موچی بیمار تو نہیں ہو گیا۔صبح ہوئی تو آپ نے لوگوں داخل ہو جاؤں اور پھر تمہیں موقع نہ ملے۔سے موچی کے بارے میں پوچھا۔لوگوں نے بتایا کہ کو تو الِ شہر سے پکڑ کر لے گیا تھا۔امام امام صاحب کبھی ایسے لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ ان کے لیے دعا صاحب کو بہت افسوس ہوا۔یہ عباسی دور حکومت تھا۔عیسی بن موسیٰ کوفہ کا گورنر تھا۔آپ کرتے۔آپ جانتے تھے کہ باوجود اس کے کہ آدمی مقابلہ کی طاقت رکھتا ہو اور دشمن کو گورنر کے پاس تشریف لے گئے گورنر نے آپ کی بہت عزت کی اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی معاف کر دے تو یہ فعل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند آتا ہے۔کام تھا تو آپ مجھے بلوا لیتے۔آپ نے فرمایا: میرے محلے میں ایک موچی رہتا تھا کو تو الِ شہر بچو! یہ جو تم دیکھتے ہو کہ لوگ بگڑتے جا رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نے رات اُسے گرفتار کر لیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے رہا کر دیں۔گورنر نے موچی قرآن کریم کی تعلیم کو بالکل چھوڑ دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ بزرگوں کا ادب اور احترام کی رہائی کا حکم بھیج دیا۔جب موچی کو پتہ چلا کہ امام صاحب نے مجھے رہا کروایا ہے تو وہ بہت بھی نہیں کرتے۔شرمندہ ہوا۔اور آپ سے معافی مانگی اس کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔اس نے امام اب جو آخری بات میں تمہیں امام اعظم کے بارے میں بتاؤں گی وہ تو بہت ہی پیاری صاحب سے علم بھی حاصل کیا۔ہے۔آپ کبھی بھی غیبت نہیں کرتے تھے۔بہت سے بچے غیبت کرتے ہیں مگر انہیں دیکھو بچو! اگر تم چاہتے ہونا کہ بُرے لوگ اچھے بن جائیں تو کبھی بھی ان کو بُرا نہ کہو۔معلوم نہیں ہوتا کہ ہم غیبت کر رہے ہیں۔جب تم اپنے کسی دوست یا سہیلی یا کسی ملنے والے بلکہ انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بہت سی خوبیاں بھی پیدا کی ہیں۔ان کی خوبیاں کی غیر موجودگی میں اس کی بُرائی بیان کرتے ہو تو وہ غیبت ہوتی ہے۔بیان کر کے انہیں اور زیادہ بُرا بننے سے بچالیا کرو۔اب تم کہو گے کہ کیا اگر اس میں وہ بُرائی موجود بھی ہو جس کا ذکر ہم کر رہے ہوں تو وہ ایک بات یاد رکھو۔دشمن پر تلوار یا بندوق کے ذریعہ سے ہی فتح نہیں پائی جاتی۔بلکہ بھی غیبت ہوتی ہے؟ یہی تو بات ہے۔دیکھو اس شخص میں بُرائی موجود ہے اور تم اس کی دشمن پر فتح پانے کا سب سے بہترین گر اسے معاف کر دینا ہے۔ایک دن امام اعظم مسجد غیر موجودگی میں اس کا ذکر کر رہے ہو تو یہ غیبت ہوگی۔اگر اس شخص میں وہ بُرائی موجود نہیں