امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

by Other Authors

Page 6 of 14

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 6

6 5 سمجھتا تھا۔امام شعمی کی بات نے آپ کے دل پر بہت اثر کیا اور آپ نے دل میں پکا فیصلہ زبانی بھی سمجھا دیا کرتے اور اس حکم پر عمل کر کے رہنمائی فرما دیتے تھے۔آپ کی وفات کے کر لیا کہ اب میں عالم لوگوں کے ساتھ بیٹھوں گا اور دین کا علم حاصل کروں گا۔بعد بھی جب کبھی کوئی مسئلہ پیش آجا تا تو صحابہ غور کرتے کہ اس بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے بچو! تم نے یہ پیاری حدیث بھی سنی ہوگی کہ طالب علم کے راستے میں فرشتے اپنے پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے اور آپ کا اس بارے میں کیا عمل اور ارشاد بچھا دیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی علم حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تھا۔اس طرح قرآن، سنت اور حدیث کی روشنی میں وہ اپنے علم کے مطابق مسائل حل فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد کرتا ہے۔حضرت امام صاحب نے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور کیا کرتے تھے۔اس کی مدد کے ساتھ علم حاصل کرنا شروع کیا۔اس زمانہ میں علم حاصل کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ اساتذہ کسی خاص مسئلہ پر طالب علموں کے سامنے تقریر کیا کرتے پھر طالب علم کو جو بات سمجھ نہ آتی وہ ان سے پوچھ لیا کرتے اور ساتھ ہی اسے لکھ بھی لیتے تھے۔کوفہ میں امام حماد کی درسگاہ بہت بڑی اور مشہور تھی۔امام اعظم ابوحنیفہ نے بھی اسی درسگاہ کا انتخاب کیا اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔تم میں سے اکثر بچوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ فقہ کا علم کسے کہتے ہیں ؟ آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ فقہ کاعلم کیا ہوتا ہے؟ دیکھو بچو! ہمارے پیارے اللہ میاں نے تمام دنیا کی ہدایت کے لیے آنحضرت صلی اللہ بچو! اب تو تمہاری سمجھ میں یہ بات آگئی ہوگی کہ : فقہ اس علم کو کہتے ہیں جس میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں مختلف قسم کے مسائل کے متعلق حل بیان کیے جاتے ہیں۔مثلاً یہ کہ وضو اس طرح کرنا چاہیے، نماز اس طرح پڑھنی چاہیے۔اسی طرح زکوۃ ، روزہ ، حج ، نکاح کے علاوہ لین دین اور ورثہ اور روزمرہ کے مسائل۔بچے کی ولادت سے لے کر اس کی وفات تک کے مسائل کو علم فقہ کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔“ فقہ کا علم جاننے والا فقیہ کہلاتا ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ نے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔فقہ علیہ وسلم کو پیدا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید جیسی پیاری اور مکمل کتاب نازل کے علم کو جاننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ حدیث اور قرآن کریم کا علم اچھی طرح آتا ہو۔فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دیکھو! قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس لیے آپ نے قرآن کریم اور حدیث کا علم بھی حاصل کیا۔آپ نے کوفہ میں کوئی ایسا نے تمام انسانوں کے نام ایک بہت پیارا خط لکھا ہے اور مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے کہ میں یہ محدث یعنی حدیث بیان کرنے والا نہیں چھوڑا جس سے آپ نے حدیث کا علم حاصل نہ خط پڑھ کر تمہیں سناؤں اور تمہیں سمجھاؤں۔اب جو بات بھی میں کہوں یا جو عمل بھی میں کیا ہو۔حدیث کے متعلق علم حاصل کرنے کے لیے آپ بصرہ اور شام بھی تشریف لے کروں تو سمجھ لینا کہ وہ بات اور وہ عمل میں نے خدا کے حکم کے مطابق کیا ہے۔دینی یا گئے۔امام حماد کے علاوہ آپ نے فقہ کا علم حضرت امام جعفر صادق سے بھی سیکھا حضرت امام دنیاوی معاملہ میں اگر تمہیں کوئی مشکل پیش آئے تو قرآن کریم اور میری بات اور عمل کے اعظم نے امام حماد سے فقہ کا علم اتنا سیکھ لیا تھا کہ ایک بار امام حماد نے فرمایا کہ:۔ذریعہ اس مشکل سے نجات حاصل کر لینا۔بچو! جب ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ لوگوں کو اے ابو حنیفہ ! تو نے مجھ کو خالی کر دیا۔“ یعنی جتنا علم میرے پاس تھا تو نے وہ سب حاصل کر لیا۔آپ کے استاد امام حماد ” آپ