امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

by Other Authors

Page 3 of 14

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 3

بہت ترقی کی۔آپ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔اس کتاب میں آپ کے سوانح حیات کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت اور اخلاق کے خوبصورت واقعات بھی شامل ہیں جو پڑھنے والوں دیباچه کوفہ شہر کی ایک گلی میں ایک خوبصورت نوجوان لڑکا گذر رہا تھا۔کوئی 17 سال کی عمر ہوگی۔کے لیے یقینا دلچسپ بھی ہوں گے اور فائدہ مند بھی۔امام اعظم کی سیرت بطور خاص طالب علموں کو ایک مضبوط عزم اور بلند حوصلہ عطا کرنے کا موجب ہو گی۔اللہ کرے کہ تمام احمدی خدام چہرے سے ذہانت ٹپک رہی جیسے کسی مکتب کا ہونہار طالب علم ہو۔راستہ میں کوفہ کے ایک بہت بڑے اور مشہور عالم امام شعمی کا مکان تھا۔امام شعمی نے اس لڑکے کو دیکھ کر پوچھا۔میاں ! کہاں واطفال اس کتاب کو پڑھ کر اس سے فائدہ اٹھانے والے اور علم وعمل میں ترقی کرنے والے جار ہے ہو؟ لڑکے نے جواب دیا: میں ایک تجارتی کام سے بازار جار ہا ہوں۔امام شعمی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے پوچھا: میرا مطلب ہے تم کس سے پڑھتے ہو؟ لڑکے نے جواب دیا کسی سے بھی نہیں۔امام شعمی نے غالباً اس لڑکے کے چہرے سے اس کی غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کے جو ہر کا اندازہ کر لیا تھا۔بڑی محبت سے اسے کہنے لگے : ”تمہیں چاہیے کہ علماء کے پاس بیٹھا کرو اور علم حاصل کیا کرو۔“ چنانچہ اس دن سے اس لڑکے کی زندگی میں ایک تبدیلی واقع ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو حصول علم میں مصروف کر دیا اور اس قدر اس میں کمال حاصل کیا کہ آج بھی ان کے علم سے کروڑ ہا انسان فائدہ اٹھارہے ہیں۔یہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ نے دینی علوم میں مہارت حاصل کی اور قرآن وحدیث کی روشنی میں عبادات اور انسانی زندگی کے مسائل زیر بحث لاکر ان کا حل پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دینی مسائل کی سمجھ بوجھ کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا اسی لیے آپ کے علم فقہ کو سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی اور آپ امام اعظم کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپ نے نہ صرف علم کے میدان میں کمال حاصل کیا بلکہ نیکی ،تقوی اور طہارت میں بھی ہوں۔آمین