امام مہدی کا ظہور — Page 8
شیعہ اور سنی اجماع چھتنے لوگ حدیثیوں کے ماننے والے ہیں سنتی ہوں یا ( ) شیعہ۔سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدی کا آخری زمانہ میں ظہور ضروری ہے اور علماء امت نے لکھا ہے کہ مسیح موعود اور امام مہدی کے زمانہ میں اسلام دنیا پر غالب آجائیگا۔چنانچہ قرآن مجید میں آیا ہے :- هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ على الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ " یعنی۔خدا وہ ہے جینی اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ رسول اور اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔اس آیت کے متعلق تفسیر ابن جریر میں زیرہ آیت ہذا لکھا ہے :- " هَذَا عِنْدَ خَرُوجِ المَهْدِي " که اسلام کا یہ غلبہ تمام ادیان پر امام مہدی کے زمانہ میں ہو گا۔بحارالانوار میں جو شیعوں کی حدیث کی کتاب ہے۔لکھتا ہے :- نَزَلَتْ فِي الْقَائِمِ مِنَ الِ مُحَمَّدٍ : کہ یہ آیت آل محمد کے القائم یعنی امام مہدی کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔پھر شیعہ اصحاب کی ایک معتبر کتاب " غایۃ المقصود جلد ۲ صفحہ ۱۲۳ میں بھی سکھا ہے :- مراده از رسول درین جا امام مهدی موعود است اس آیت میں جو رسول موعود ہے اس سے مراد امام مہدی ہے۔ابھی پچھلے دنوں میں ایک تحریری بحث ایک شیعہ عالم سے جوشی والی رئیس المناظرین