امام مہدی کا ظہور — Page 6
آمد کی خبر ضرور دی تھی چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی و محدد صدی دور از د ہم خدا تعالے سے علم پاکہ بیان فرماتے ہیں :۔عَلَّمَنِي رَبِّي جَلَّ جَلالُهُ انَّ القِيَامَة قَدِ اقْتَرَبَتْ وَالْمَهْدِيَّ تَهَيَّا لِلْخُرُوج تفہیمات الہیہ جلد ۱۳۳۲) یعنی۔میر سے رب نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور مہدی نکلنے کے لئے تیار ہے۔پس وقت کا تقاضا یہی تھا کہ امام مہدی ہمارے زمانہ میں مبعوث ہو۔چنانچہ وہ عین اس وقت پر جو قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے ظاہر ہوا۔قرآن مجید اور مہدی آج کل بعض لوگ یہ کہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں کسی جہدی کا ذکر نہیں البتہ حدیثوں میں مہدی کے آنے کا ذکر ضرور ہے۔لیکن وہ حدیثیں ہمارے لئے حجت نہیں ہیں۔اس لئے میں سب سے پہلے قرآن مجید پیش کرنا چاہتا ہوں۔قرآن مجید میں سورۃ وائیل کی آيَاتِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إذا تجلی اس بات پر روشن دلیل ہیں کہ اسلام کا آفتاب پڑھنے اور پوری آب تاب کے ساتھ چھلنے کے بعد پھر ایک وقت پردہ میں آجائے گا اور اسلام پر ایک رات چھا جائے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشی میں رات کو بطور گواہ کے پیش کرتا ہوں جب کہ وہ چھا جائے گی۔یعنی اسلام پر ایک تاریخی کا دورہ آئیگا۔آگے فرمایا - وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلی پھر اس تاریخی کے دور کے بعد میں گواہ