علم و عمل

by Other Authors

Page 8 of 20

علم و عمل — Page 8

13 12 ہے۔اسی لئے حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے فرمایا۔وو صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو۔“ (کشتی نوح) روحانی خزائن جلد 19 ص 10 جہاں تک اسلام لانے کے بعد عمل کے تقاضوں کا تعلق ہے اس کا میدان چاہیے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 ص 12) خدا کو پانے کی راہیں بے شمار ہیں اور انسانی طاقتیں محدود۔اس صورت میں بے انتہا وسیع ہے۔اس قدر وسیع کہ انسان ساری زندگی بھی ان تقاضوں کو پورا کرنے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی ایک نصیحت خاص طور پر یاد ر کھنے اور حرز جان بنانے در کی کوشش کرتا رہے تو تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنی ذمہ داری کو کما حقہ ادا کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا۔کر دیا۔بالآخر یہی الفاظ زبان پر آئیں گے کہ جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا وو ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو۔نہ معلوم کس راہ سے تم قبو لکئے جاؤ۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308) خدا تعالیٰ کو پانا مومن کی معراج ہے۔لیکن اس کو چہ تک رسائی کوئی آسان بات نہیں۔یہ زندگی بھر کا سفر ہے جو مسلسل قربانیوں، اصلاح نفس اور فنا فی اللہ کی اس صورت حال میں ہر مومن کے لئے ایک ہی راستہ ہے جس پر چلنا از بس راہوں سے گزرنے کا نام ہے۔اب یہی ایک جہاد ہے جس کا سلسلہ زندگی کے لا زم ہے اور وہ راستہ اپنے آپ کو کلیتہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کا اور ہر آن آخری سانس تک جاری رہنا چاہیے۔اس کی رضا کی راہوں کو ڈھونڈنے کا اور ہرلحہ اپنے آپ کو راہ مولیٰ میں فنا کر دینے کا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ درس نصیحت دیا ہے جو ہمیشہ یاد رہنا چاہیے۔فرمایا وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت کا بلاوا آ جائے اس لئے سرخروئی اور کامیابی کا یہی وسیلہ ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ اس حالت میں بسر کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے بچے فرمانبردار ہو۔اس مقام کو حاصل کرنا مشکل تو ہے لیکن یہی ایک ذریعہ ہماری فلاح اور سرخروئی کی ضمانت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی بخش تحریرات میں اس مضمون کو مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے۔ایک اور موقع پر فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔کیا ہی دشوار گزار وہ راہ ہے جو خدا کی راہ ہے پر اُن کے لئے آسان کی جاتی ہے جو مرنے کی نیت سے اس اتھاہ گڑھے میں پڑتے ہیں۔۔۔مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اُس سے موافقت نہیں کرتے۔جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔سوتم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جاؤ کیونکہ ایک