علم و عمل

by Other Authors

Page 3 of 20

علم و عمل — Page 3

3 2 کی محنت اور لگن کی بدولت علم کے یہ خزا نے آپ سب تک پہنچتے ہیں فجر اھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ علم ومل 69 مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً ج ( الاحزاب 24:33) علم و عمل کا موضوع بظاہر بہت ہی سادہ مختصر ، آسان اور محض دو الفاظ پر مشتمل دکھائی دیتا ہے لیکن بنظر غور دیکھا جائے تو یہ اپنے اندر معانی اور مفاہیم کی گہرائی اور مضامین کی غیر معمولی وسعت اور جامعیت رکھتا ہے۔علم و عمل در اصل دو ایسے دائرے ہیں جنہوں نے ہماری ساری زندگی کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ابتدا سے لے کر انتہا تک ہماری جد و جہد ، خواہ وہ دین سے تعلق رکھتی ہو یا دنیا سے۔انہی دو دائروں پر مشتمل دو محوروں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔علم اگر پیج کی طرح ہے تو عمل اس کا پھل ہے۔علم کے بغیر نہ دین کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں اور نہ دنیا کی ضروریات۔اور دوسری طرف عمل نہ ہو تو انسان کو نہ دین کے میدان میں کچھ حاصل ہوتا ہے اور نہ دنیا میں۔علم کے بغیر صحیح عمل کا تصور ممکن نہیں اور اگر عمل نہ ہو تو محض علم ایک بے فائدہ چیز ہے۔علم کا مقصد ہی یہ ہے کہ علم کی روشنی میں انسان عمل کی شاہراہ پر گامزن ہو اور بالآخر صحیح علم اور مناسب حال عمل صالح کی برکت سے اپنے مقصد کو پالے۔اس لحاظ سے علم و عمل با ہم لازم و ملزوم ہیں۔ایک گاڑی کے دو پیسے ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی کی گاڑی چل نہیں سکتی۔ان میں توازن بھی ضروری ہے اور موافقت بھی۔حق یہ ہے کہ علم و عمل ہماری زندگی کا ماحصل اور نچوڑ ہیں۔