علم و عمل

by Other Authors

Page 17 of 20

علم و عمل — Page 17

31 30 سینکڑوں شہیدانِ احمدیت نے احمدیت کے چمن کو اپنے خون سے سینچا ہے اور ہزارہا امام وقت کے مقدس ہاتھ میں ہاتھ دے کر وفا کی کچھ قسمیں کھائی ہیں۔عہد بیعت کو اسیرانِ راہ مولیٰ نے احمدیت کی آبرو کی خاطر اپنی عزتیں قربان کی ہیں۔آج اس بار بار صمیم قلب سے دوہرایا ہے۔یاد رکھو کہ آج ان قسموں کو پورا کرنے کا وقت آ گیا وقت بھی یہ اسیرانِ راہِ مولیٰ جیل کی تاریک و تار کوٹھریوں میں آ ہنی سلاخوں کے ہے۔اپنے وعدوں کو سچ کر دکھانے کا دن آگیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں علم کے بے پیچھے عشق و وفا اور صبر و استقامت کی قندیلیں روشن کئے بیٹھے ہیں۔لاریب انہی پناہ خزانوں سے نوازا ، قرآن کریم کا بحر عظیم ہمیں عطا ہوا۔احادیث کا انمول خزانہ قندیلوں سے ایک روز سارا جگ منور ہوکر رہے گا۔ہمیں نصیب ہوا۔مسیح زماں نے روحانی خزائن کی دولت سے ہمیں مالا مال کیا۔اب کے تقاضے بے شمار ہیں۔چند مثالیں آپ کی خدمت میں عرض کی ان سب علوم کو مل کے سانچے میں ڈھالنے کا وقت آگیا ہے یہ باتوں کا وقت نہیں ، ہیں۔آخر میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک اور میدانِ عمل بھی ہے جو ہماری راہ عملاً کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔دیکھو کہ دعوت الی اللہ، تربیت اور اصلاح نفس کے دیکھ رہا ہے۔یہ میدان اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے کا ہے۔ہم نے دیکھا کہ تاریخ کتنے وسیع میدان ہیں جو ہمارے منتظر ہیں۔کتنے تقاضے ہیں جو ہم نے پورے اسلام کے ہر دور میں کس طرح عشاق اسلام نے اپنے ایمان کے تقاضوں کو عملی کرنے ہیں۔اُٹھو! اور صدق و وفا کے ساتھ ، اپنے نیک عزائم کو اعمال کے قالب رنگ میں پورا کر دکھایا۔انہوں نے کے علم کو بڑی شان سے سر بلند رکھا اور میں ڈھالتے چلے جاؤ۔کبھی بھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان وفا شعار، راست باز عشق و وفا کی یہ سچی داستانیں ، اسلاف کے یہ ایمان افروز واقعات ،صرف اور صادق القول صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین کا کس محبت سے ذکر فرمایا ہے۔اس سننے سنانے کی باتیں نہیں۔ان زندگی بخش واقعات میں ہم سب کے لئے ایک آیت کریمہ میں جو میں نے شروع میں بیان کی تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ۔کہ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے ، جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَه پس ان میں سے وہ بھی ہے اس نے اپنی منت اور اپنے وعدہ کو عملاً پورا کر دکھا یاؤ مِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ اور ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو وفا کے ساتھ ابھی انتظار کر رہے ہیں وَ مَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا اور وہ ایسے ہیں کہ انہوں نے ہرگز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ہاں وہ اُس وقت کے منتظر ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ اپنے وعدوں کو پورے اخلاص کے ساتھ پورا کر سکیں۔یادر ہے کہ ہم نے بھی اپنے مولیٰ سے کچھ عہد و پیمان کئے ہیں۔ہم نے بھی درس نصیحت مضمر ہے۔جس علم کو صحابہؓ نے اور ہمارے اسلاف نے سر بلند رکھا اُسے سر بلند رکھنا اور کل عالم پر لہراتے چلے جانا ہمارا فرض ہے۔پس اے دین احمد کے فدائیو! اور احمدیت کے جانثارو! اٹھو اور خدمت دین کرنے کی جو بے تاب تمنائیں آج ہمارے سینوں میں موجزن ہیں ان سب کو عملی جامہ پہناؤ۔خدا کے حضور اپنے یچے اور مخلصانہ ارادے ، اعمال صالحہ کے خوبصورت طشتوں میں سجا کر پیش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور منہ کی باتیں اور زبانی دعوے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔اُس دربار میں تو نیک اور پر خلوص اعمال کے نذرانے ہی قبول ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم