علم و عمل

by Other Authors

Page 4 of 20

علم و عمل — Page 4

5 4 علم کی نعمت اول طور پر خدا کے نبیوں کو عطا کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی قوم کے ہماری فلاح اور کامیابی کا محور اور معیار ہیں۔ہماری بقا اور ترقی کی ضمانت ان دو الفاظ میں مضمر ہے۔ہماری سرخروئی اور شاد کامی کا راز ان دو الفاظ میں پوشیدہ ہے۔معلم بن سکیں۔پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک احمدی کی زندگی کا ماٹو اور نصب العین علم و عمل کے دو مختصر الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔لغوی لحاظ سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کو علم کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔قرآن کے عرف میں علم اس چیز کا نام ہے کہ جو قطعی اور یقینی ہو۔نیز فرمایا۔احادیث نبویہ میں علم حاصل کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے۔طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَةٍ کہ علم حاصل کرنا ہر مسلم مرد اور عورت پر فرض ہے۔ایک دوسری حدیث میں یہ تاکید ہے کہ أطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ (براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 ص295 حاشیہ ) کہ پنگھوڑے کی عمر سے لے کر قبر میں داخل ہونے تک علم حاصل کرتے چلے جاؤ۔حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا۔ہے۔یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور خشیت الہی پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (الفاطر 29:36) اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یاد رکھو وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 11) ایک تیسری حدیث میں یہ ارشاد ملتا ہے۔اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَو بِالصّينِ کہ علم حاصل کرنے کی خاطر اگر تمہیں چین تک بھی سفر کرنا پڑے تو ضرور جاؤ۔حدیث میں بنیادی طور پر علم کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں۔علم الادیان اور علم الا بدان۔دینی علم کو ہر دوسرے علم پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ دینی علم کی برکت سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی جبکہ دنیاوی علوم کا دائرہ اثر صرف اس دنیا تک ہے۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بنی نوع انسان کی تخلیق کے بعد اور وہ جو علم نہیں رکھتے ، ہرگز برابر نہیں۔صاحب علم کی فضیلت ایک مسلم امر ہے۔علم انسان پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اور انعام، علم کا عطا کیا جانا ہے جس کے ذریعہ وہ قوت بیان حاصل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔حقیقی علم سے انسان میں خاکساری پیدا ہوتی ہے، جو اُس کے لئے درجات کی بلندی اور آخرت میں سرخروئی خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (الرحمن 5:55) کا موجب ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کیا اور اسے بیان سکھایا۔نیز فرمایا۔عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (العلق 6:96) کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔علم و حکمت ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے، دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 209)