اك حرف ناصحانہ — Page 25
۲۷ غلام احمد علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ کے لئے استعمال کرتا ہے تو کوئی معقول انسان اس کا یہ مفہوم نہیں لیتا کہ اُس کی مراد یہ ہے کہ جو لوگ حضرت مرزا غلام احمدعلیہ السلام کے منکرین میں شامل ہیں نعوذ باللہ حضرت ام المؤمنین، اُن کی بھی رُوحانی والدہ ہیں۔احمدی تو انہیں محض حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام پر ایمان لانے والوں یعینی احمدیوں کی روحانی ماں کہتے ہیں آپ کا انکار کرنے والوں کی روحانی ماں تو نہیں کہتے۔اس بات سے کسی کی دل آزاری جائے تعجب نہیں تو کیا ہے ؟ مسجد و اذان کا لفظ صرف مسلمانوں کے لئے مختص نہیں خود خندا مسجد اذان : تعالیٰ نے عیسائی عبادت گاہوں کو قرآن کریم میں مسجد کا نام و جس ہے اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک غیر مسلم لڑکے سے اذان و کار حدیث کی کتاب ” ابو داؤد " کتاب الاذان میں ملتا ہے کہ غزوہ حنین سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کا فر کو اذان سکھلائی اور اذان دینے کا ارشاد فرمایا اور جب اسنے خوش الحانی سے اذان دی تو حضور نے اسے انعام عطا فرمایا۔اس شخص کا نام " ابو محذورہ “ تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عیسائی، ہندو یا پارسی اسلام کو سچا مذہب تصور نہیں کرتے اس لئے وہ اسلامی شعائر اپنانے میں کوئی فخر محسوس نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی نجات عیسائیت یا ہندومت و غیرہ میں ہی ہے۔احمدی جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے اسلام پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوای کو سچا ماننے کو بھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق سمجھتے ہیں۔وہ اپنی اخلاقی اور روحانی ترقیوں کا موجب اپنے اس عقیدہ کو سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نجات اس عقیدے سے ہی ہے۔ان کی