اك حرف ناصحانہ

by Other Authors

Page 18 of 27

اك حرف ناصحانہ — Page 18

ن رکھتا ہو مثلاً عیسائی ہویا سکھ ہو قرآنی تعلیم کو پسند کرنے لگے تو قرآن و سنت کے کس حکم کی رُو سے اسے اس پر عمل پیرا ہونے سے روکا جاسکتا ہے ؟ اگر روکا جاسکتا ہے تو کیا آوا مرو نواہی دونوں پر عمل پیرا ہونے سے روکا جائے گا یا صرف ایک سے۔مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے ایک خدا کی عبادت کرو ، مسجدیں بناؤ، پتے بولو، صبر سے کام لو حلم افت پیار کرو ، انکساری کو اپناؤ، لوگوں پر رحم کرو۔یہ سب آؤ امر ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں کیا ان سب پر عمل پیرا نے سے ایک غیر مسلم کو روکی بند و بعضی عمل سے روکا جائیگا جائے گا۔اگر بلکہ تو کس قرآنی حکم کے تابع ایسا کیا جائے گا؟ ہے اگر کوئی یہ موقف اختیار کرے کہ ان سر کرنے سے نہیں رو کا سجائے گا بلکہ وہ نیکیاں جن کا بندوں اور انسانی معاملات سے تعلق ہے ان پر عمل کرنے کی اجازت ہو گی لیکن ان نیکیوں سے بہر حال روک دیا جائے گا جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور جن کو حقوق اللہ کہا جاتا ہے یا عبادت کہتے ہیں مثلاً اذان، نماز، سجدہ ، رکوع ، ذکر الہی، نماز تجد ، روزہ وغیرہ یہ سب عبادات ہیں اور اسلامی اصطلاحات میں بیان ہوئی ہیں۔گویا ایک اسلامی مملکت میں یہ تو اجازت ہوگی کہ جہاں تک قرآن کریم میں بندوں کے حقوق مذکور ہیں ان پر تو ہر غیرمسلم عمل کر سکتا ہے لیکن جہاں تک خدا کے حقوق کا تعلق ہے کسی غیر مسلم کو وہ حقوق ادا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔اگر ایسا ہو تو کیا کسی غیر مسلم کو یہ پوچھنے کا بھی حق دیا جائے گا یا نہیں کہ قرآن کریم و سنت سے کہاں ثابت ہے کہ غیر مسلم کو حقوق اللہ ادا کرنے کی اجازت نہیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر عبادت کرنے کا حق نہیں، نیز اس صورت میں قرآن و حدیث کی رو سے اس جرم کے مرتکب کی کیا سزائیں تجویز کی گئی ہیں لیکن یہ سب سوالات تو تب اُٹھیں گے جب غیر مسلم کو یہ پوچھنے کا ستی دیا جائے۔