اك حرف ناصحانہ — Page 12
۱۴ عقیدہ کے مطابق عمل پیرا ہونا کس طرح دل آزاری کا موجب ہو سکتا ہے ؟ تو یہاں بھی یہ ضمنی مگر اہم سوال پیدا ہوگا کہ اگر قرآن کریم کو برحق اور واجب الاطاعت تسلیم کرنا ولآزاری کا موجب نہیں تو اسے بر حق سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونا کسی کی دل آزاری کا موجب کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ عقل و انصاف کے سراسر منافی مؤقف اُس وقت تک اختیار نہیں کیا جاسکتا جب تک پہلے عقل و دانش کو کلیتہ چھٹی نہ دے دی جائے۔اور اگر ایسا کیا جائے و پھر یضحکہ خیز صورت بھی اس کے نتیجہ میں پیدا ہوگی کہ اکثریت کے نزدیک جو سلمان ہیں اگر وہ قرآن کریم کو سچا اور واجب الاطاعت تسلیم کرنے کے باوجود اس پر عمل نہ بھی کریں تو اس سے عالم اسلام کی ہرگز کوئی دلآزاری نہیں ہوگی لیکن اگر کوئی اقلیت جسے وہ غیر مسلم مجھتے ہیں قرآن کو واجب الاطاعت سمجھتے ہوئے اس کے احکام پوختی - ا عمل پیرا ہوتی ہو تو اس سے مسلمان اکثریت کے جذبات شدید طور پر بھڑک اُٹھیں گے۔گویا مشتعل ہجوم زبان خنجر سے یہ اعلان کرے گا کہ جب دستوری طور پر تمہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے تو پھر تمہیں قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا سمجھتے ہوئے ان کی اطاعت کا کیا حقی رہتا ہے تمہاری بیگستاخی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جاسکتی۔اسلام اور دل آزاری چونکہ ولآزاری کا یہ عذر اسلام کے نام پر تراشا جا رہا ہے اس لئے آئیے ہم دلآزاری کے بارہ میں اسلامی تعلیم کا عمومی نظر سے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ولا زاری ہے کیا چیز قرآن اور سنت اس پر کیا روشنی ڈال رہے ہیں اور دل آزاری کی کیا حدود تجویز کی گئی ہیں۔اس مطالعہ سے پہلی حقیقت جو نمایاں طور پر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک غیر مذاہب کا اسلامی اعتقادات اور اعمالِ صالحہ میں شریک ہونا ایک قابل تعریف فعل قرار پاتا ہے نہ کہ قابل مذقت و دلآزاری۔چنانچہ قرآن کریم اہل کتاب کو مخاطب