اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 163

اِعجاز المسیح — Page 88

اعجاز المسيح ۸۸ اردو تر جمه بفضله العظيم لأنه رحمة سے صفت رحمن کے مظہر ہیں۔کیونکہ آپ نوع (۱۱۵) للعالمين كلهم ولنوع الإنسان انسان و حیوان اور اہل کفر و ایمان سب کے والحيوان۔وأهل الكفر لئے رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ ہیں پھر بِالْمُؤْمِنِينَ دھ والإيمان۔ثم قال " بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِیم فرما کر اس نے آپ کو رَءُوفٌ رَّحِيم “۔فجعله رحمن اور رحیم بنا دیا جیسا کہ کسی صاحب رحمانا و رحيما كما لا يخفى فہم پر مخفی نہیں۔اور اللہ نے آپ کی تعریف على الفهيم۔وحمده وعزا إليه فرمائی اور آپ کی عظمت و تکریم کے باعث آپ خُلُقًا عظيما من التفخيم کی طرف خُلُقٍ عَظِیم کو منسوب فرمایا جیسا کہ والتكريم۔كما جاء في القرآن قرآن کریم میں آیا ہے۔اگر تم یہ سوال اٹھاؤ کہ الـكـريـم۔وإن سألت ما خُلُقُهُ | آپ کا خلق عظیم کیا ہے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے العظيم فنقول إنه رحمان کہ آپ رحمن اور رحیم ہیں اور آپ کو ہی ورحيم۔ومُنحَ هو عليه الصلاة يه دونوں نور اُس وقت ہی عطا کر دیئے گئے تھے هذين النورين و آدم بين الماء جب آدم ابھی آب و گل کی حالت کے درمیان والطين۔وكان هو نبيًّا وما كان تھا اور آپ اُس وقت بھی نبی تھے کہ آدم کے وجود لآدم أثر من الوجود ولا من اور گوشت پوست کا کوئی نام ونشان تک نہ تھا الأديم۔وكان الله نورا فقضى ان اللہ نور ہے اور اُس نے فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک يخلق نورا فخلق محمد الذى نور پیدا فرمائے پس اُس نے محمد کی تخلیق هو كذريتيم۔و أشرك اسميه فرمائي جو یکتا موتی ہیں۔اللہ نے حضور کے دو في صفتيه ففاق كل من أتى الله نامول مـحـمـد اور احمد کو اپنی دوصفات بقلب سليم۔وإنهما يتلألآن في رَحْمن اور رحیم میں شامل فرمالیا۔پس آپ بقية الحاشية۔الا في الرحمانيّة فان الرحيميّة يختص بعالم واحد من المؤمنين۔منه بقیہ حاشیہ۔صادق آتے ہیں۔کیونکہ رحیمیت تو صرف مؤمنوں کے ایک عالم کے ساتھ مختص ہے۔التوبة: ١٢٨