اِعجاز المسیح — Page 87
اعجاز المسيح ۸۷ اردو ترجمہ أن الرحمانية رحمة مطلقة علی کے نام دیئے ہیں ۔ اور تو جانتا ہے کہ رَحْمَانِیت ۱۱۴ سبيل الامتنان۔ ويَرِدُ فيضانها از راه احسان رحمت عام ہے جس کا فیضان ہر على كل مؤمن و كافر بل كل مومن، کافر بلکہ ہر طرح کے جاندار کو پہنچتا ہے ، رہی نوع الحيوان۔ وأما الرحيمية فهي رحمة وجوبية من الله رَحِيمِيّت تو وہ اَحْسَنُ الْخَالِقِين خدا کی أحسن الخالقين۔ وجبت رحمت خاصہ ہے جو دوسرے حیوانات اور کافروں للمؤمنين خاصة من دون حيوانات أخرى والكافرين۔ کے علاوہ صرف مؤمنوں کے لئے بالضرور خاص ہے۔ پس لازم آیا کہ انسانِ کامل یعنی فلزم أن يكون الإنسان الكامل صلى الله ت کے احمد رکھا وو أعنى محمدًا مظهر هاتين ( حضرت محمد ( علی ) ان دونوں صفات ) الصفتين۔ فلذالك سُمّى مظہر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ رب کائنات کی محمدًا وأحمد من رب الكونين۔ طرف سے آپ کا نام ۔ محمد اور احمد وقال الله في شأنـــه لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ گیا اور اللہ نے آپ کی شان میں فرمایا کہ ” انْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَنتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ! عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ۔ فأشار الله في قوله عَزِيزٌ وفي قوله حَرِيصٌ إلى أنه عليه اللہ نے اپنے قول ” عزیز “ اور قول ”حریص میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ حضور علیہ السلام اُس کے فضل عظیم السلام مظهر صفته الرحمان لے یقینا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا۔ اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو (اور ) وہ تم پر ( بھلائی چاہتے ہوئے) حریص ( رہتا) ہے۔ مؤمنوں کے لئے بے حد مہربان (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔(التوبة: ۱۲۸) الحاشية۔ قال الله تعالى وَمَنْ اَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ۔ ۔ ولا يستقيم هذا المعنى اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ یہ معنی تو صفت رحمانیت پر ہی الانبياء : ١٠٨