اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 163

اِعجاز المسیح — Page 87

اعجاز المسيح اردو ترجمہ أن الرحمانية رحمة مطلقة علی کے نام دیئے ہیں۔اور تو جانتا ہے کہ رَحْمَانِیت (۱۱۴) سبيل الامتنان۔ويَرِدُ فيضانها از راه احسان رحمت عام ہے جس کا فیضان ہر على كل مؤمن و کافر بل كل مومن کا فر بلکہ ہر طرح کے جاندار کو پہنچتا ہے، رہی نوع الحيوان۔وأما الرحيمية فهى رحمة وجوبية من الله رَحِيمِيّت تو وہ اَحْسَنُ الْخَالِقِين خدا کی أحسن الخالقين۔وجبت رحمت خاصہ ہے جو دوسرے حیوانات اور کافروں للمؤمنين خاصة من دون کے علاوہ صرف مؤمنوں کے لئے بالضرور حيوانات أخرى والكافرين۔خاص ہے۔پس لازم آیا کہ انسان کامل یعنی فلزم أن يكون الإنسان الكامل أعـنـى مـحـمـدا مـظـهـر هـاتين " ( حضرت ) محمد (ع) ان دونوں صفات کے الصفتين۔فلذالك سُمّى مظہر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رب کائنات کی محمدًا وأحمد من رب الكونين طرف سے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا وقال الله في شأنه وو گیا اور اللہ نے آپ کی شان میں فرمایا کہ ” لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسَكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَنتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيةٌ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ با عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوْفٌ رَّحِيمٌ فأشار الله في قوله عَزِيزٌ وفي اللہ نے اپنے قول ” عزیز اور قول ”حریص میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ حضور علیہ السلام اُس کے فضل عظیم السلام مظهر صفته الرحمان ) قوله حَرِيصٌ إلى أنه عليه لے یقینا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا۔اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو ( اور ) وہ تم پر ( بھلائی چاہتے ہوئے) حریص ( رہتا) ہے۔مؤمنوں کے لئے بے حد مہربان (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔(التوبة: ۱۲۸) * الحاشية۔قال الله تعالى وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ۔۔ولا يستقيم هذا المعنى اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔یہ معنی تو صفت رحمانیت پر ہی الانبياء : ١٠٨