اِعجاز المسیح — Page 79
اعجاز المسيح ۷۹ اردو ترجمہ الرحمة على عامل إلا بعد ما وقت نازل کرتا ہے جب وہ صحیح طریق پر اُس کی حمده على نهجه القويم۔ ورضی تعریف کرتا اور اس کے عمل پر راضی ہوتا ہے اور به عملا ورآه مستحقا للفضل اسے فضل عمیم کا مستحق پاتا ہے۔ کیا تجھے یہ نظر نہیں العميم۔ ألا ترى أنه لا يقبل عمل آتا کہ وہ کافروں، مشرکوں، ریا کاروں اور الكافرين والمشركين والمرائين متکبروں کے عمل کو قبول نہیں کرتا بلکہ وہ ان کے والمتكبرين۔ بل يُحبط أعمالهم اعمال ضائع کر دیتا ہے اور انہیں اپنی طرف ولا يهديهم إليه ولا ينصرهم بل ہدایت نہیں دیتا اور نہ ان کی مدد کرتا ہے بلکہ انہیں يتركهم كالمخذولين۔ فلا شك بے یار و مددگار لوگوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے ۔ أنه لا يتوب إلى أحد بالرحيمية اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ کسی شخص کی طرف اپنی ولا يُكمل عمله بنصرة منه صفت رحیمیت کے ساتھ متوجہ نہیں ہوتا اور نہ والإعانة۔ إلَّا بعد ما رضى به فعلا ہی اس کے عمل کو اپنی مدد اور اعانت سے مکمل فرماتا وحمده حمدا يستلزم نزول الرحمة۔ ثم إذا كمل الحمد من الله بكمال أعمال المخلصين۔ ال ہے مگر اس وقت جب وہ اُس کے کام سے راضی ۱۰۳ ہو جائے اور اس کی کامل تعریف کرے جو نزول رحمت کو مستلزم ہے۔ پھر جب مخلصین کے اعمال فيكون الله أحمد و العبد کے کمال پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حمد کمال کو محمدا۔ فسبحان الله أوّل پہنچ جائے تو اللہ احمد ہو جاتا ہے اور بندہ المحمدين والأحمدين۔ وعند ذالك يكون العبد المخلص في محمد ۔ وہ اللہ پاک ہے جو سب سے پہلا محمد اور سب سے پہلا احمد ہے۔ اس وقت مخلص بندہ بوجہ العمل محبوبا في الحضرة۔ فإن الله يحمده من عرشه۔ وهو لا عمل بارگاہ الہی میں محبوب ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ يحمد أحدًا إلا بعد المحبّة۔ اپنے عرش سے اُس کی تعریف کرتا ہے اور اللہ فحاصل الكلام ان کمال محبت کے بعد ہی کسی کی حمد کرتا ہے۔ حاصل الرحمانية يجعل الله مُحمّدًا کلام یہ کہ کمالِ رحمانیت، اللہ کو محمد اور