اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 163

اِعجاز المسیح — Page 67

اعجاز المسيح الباب الثالث في تفسير آية 72 تیسرا باب بابت تفسیر آیت اردو تر جمه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إعلم وهب لك الله علم اللہ آپ کو اپنے اسماء کا علم عطا فرمائے اور اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں کی طرف رہنمائی فرمائے۔أسمائه۔وهداك إلى طرق مرضاته وسبل رضائه۔أن الاسم جان لو کہ اسم و سم سے مشتق ہے جس کے مشتق من الوسم الذي هو أثر معنى عربى زبان میں داغنے کے نشان کے ہیں۔اِتَّسَمَ الرَّجُلُ کہا جائے ، تو اس کا مطلب ہوتا الكي في اللسان العربية۔يُقال ہے کہ اُس شخص نے اپنے لئے ایک نشان مقرر کر لیا اسم الرجل إذا جعل لنفسه سمةً يُعرف بها ويُميّز بها عند العامة۔ومنه سمت البعير ووسامه عند أهل اللسان۔وهو ما وُسِم به جس نشان سے وہ پہچانا جاتا ہے۔اور اس کے ذریعے عوام میں شناخت کیا جاتا ہے۔اور اہل زبان کے نزدیک (وَسُم کے لفظ سے ہی سِمَةُ البَعِيرِ اور وِسَامُ البَعِيرِ مشتق ہیں جس کے معنی البعير من ضُروب الصور ليعين اونٹ پر داغ دے کر کوئی شکل بنانے کے ہیں تا وہ للعرفان۔ومنه ما يُقال إنّي اس کی شناخت میں ممد ہو۔اسی طرح کہا جاتا ہے: توسمت فيه الخير۔وما رأيت إِنِّي تَوَسَّمْتُ فِيهِ الْخَيْرَ وَ مَا رَأَيْتُ الضَّيْرَ يعنى الضير۔أى تفرّست فما رأیت میں نے غور کیا اور اُس کے چہرے میں علامات خیر سمة شرّ في محياه۔ولا أثر دیکھیں اور برائی کا کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ ہی خبث في محياه ومنه الوسمی اس کی زندگی میں خباثت کا کوئی اثر نظر آیا۔اور وَسُمّ الذي هو أول مطر من أمطار سے ہی وَسمِی مشتق ہے جو موسم بہار کی پہلی بارش الربيع۔لأنه يَسمَ الأرض إذا ہے۔کیونکہ وہ تیز برسنے کے باعث چشموں کی نزل كالينابيع۔طرح زمین پر اپنے بہاؤ کے نشان چھوڑ جاتی ہے۔