اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 163

اِعجاز المسیح — Page 51

اعجاز المسيح ۵۱ اردو تر جمه ومن جاوز فلن يُقبل تفسیرہ اور جو اس سے تجاوز کر یگا تو اس کی تفسیر ہرگز قبول ويستحق لومًا۔وكذالك من نہیں کی جائے گی اور وہ قابل ملامت ہوگا۔اسی الشرائط أن لا يكون التفسير طرح ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ تفسیر چار جزء سے کم أقل من أربعة أجزاء۔وهذه نہ ہو۔یہ شرطیں میرے اور میرے مد مقابل کے ނ شروط بینی و بین خصمی علی درمیان یکساں تھیں۔ہم ان شرطوں کی پہلے۔سواء۔وقد شهرناها من قبل تشہیر کر چکے ہیں۔اور طبع کر کے اور بذریعہ تحریر سے وبلغناها إلى الأحباب دوستوں اور دشمنوں تک پہنچا چکے ہیں۔اب ہم اللہ۔اب والأعداء۔بعد الطبع والإملاء نصير و قدیر کی مدد سے تفسیر کا آغاز کرتے ہیں۔ہم والآن نشرع في التفسير بعون نے اسے چند ابواب میں مرتب کیا ہے تا کہ یہ تفسیر الله النصير القدير۔ورتبناه على طالبان حق پر گراں نہ گزرے۔اس کے ساتھ ہی ہم أبواب لئلا يشق على طلاب نے درمیانی راہ اختیار کی ہے کہ نہ تو مضمون بگاڑنے ومع ذالك سلكنا مسلك والا اختصار ہو اور نہ بیزار کرنے والی طوالت۔یہ الوسط ليس بإيجاز مُخلّ۔ولا ( تفسیر) اس ( مہر علی) کے لئے اس عاجز کی طرف ۶۶ إطناب مُمل۔وإنه له عن هذا سے ایسی ہے جیسے کسی بوڑھے باپ کا آخری بچہ، جو العاجز كالعجزة۔وأخرج من الله رب العزت کے رحم سے قضاء و قدر کے رحم سے رحم القدر برحم من ذی باہر لایا گیا ہو۔اس تفسیر کی تألیف ماہ صیام کے العزة في أيام الصیام ولیالی با برکت ایام اور اُس کی رحمت والی راتوں میں کی الرحمة۔وسميته " إعجاز گئی۔میں نے اس کا نام اعجاز المسیح فی الله 66 المسيح فــي نـمـق التفسير نمق التفسير الفصيح “ یعنی فصیح تفسیر کی تحریر ، الفصيح وإني أُرِيتُ مبشرةً کی صورت میں اعجاز امسیح رکھا ہے۔منگل کی رات في ليلة الثلثاء۔إذ دعوت الله مجھے مبشر خواب اُس وقت دکھائی گئی جب میں نے أن يجعله معجزة للعلماء۔اللہ سے دعا کی کہ وہ اس تفسیر کو علماء کے لئے معجزہ