اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 163

اِعجاز المسیح — Page 50

اعجاز المسيح اردو تر جمه نوروس (٢٤) من خيلها ورجلها وحفلها جتھے ، لشکر جرار، دستے اور قافلے لے آئیں لیکن وجحفلها۔وزمرها وقوافلها۔ان کی حالت ایک در گور مردہ کی سی ہو گئی یا چراغ فصاروا كميت مقبور۔أو زيت کے اُس تیل کی طرح جو جل گیا ہو اور اس کی روشنی سراج احترق وما بقى معه من باقی نہ رہی ہو۔ان کے چھوٹے، بڑے جو بھی وسكتنا من بارز من مقابلہ پر آئے ہم نے انہیں ساکت اور لاجواب کر صغيرهم وكبيرهم۔وأو كفنا من ديا اور ان کے گدھوں میں سے ہر بینگنے والے پر نهق من حميرهم۔فما كانوا أن ایسا پالان ڈال دیا کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہ کر يتحركوا من المكان أو يميلوا سکیں۔یا اپنی غنودگی سے بیدار ہو کر نیزے کی من السنة إلى السنان۔بل جربنا طرف رخ کر سکیں۔بلکہ ہم نے ابتداء زمانہ سے من شرخ الزمن إلى هذا الزمان آج تک یہ تجربہ کیا ہے کہ یہ لوگ میدان میں نکل إن هؤلاء لا يستطيعون أن کر ہمارا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔عورتوں يبارزونا في الميدان ولیس کی طرح حجروں میں بیٹھے ہوئے گالی گلوچ کے سوا فيهم إلا السب والشتم قاعدین ان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔وہ ہر تنگ اور پُر خطر في الحجرات كالنسوان میدانِ حرب سے بھاگ جاتے ہیں اور اُن کی قبا يفرون من كل مأزق۔ويتراءى کے نیچے سے اُن کے چیتھڑے نظر آرہے ہوتے أطمارهم من تحت يلمق۔ثم لا ہیں۔پھر نہ تو وہ اعتراف کرتے ہیں اور نہ نادم يقرون ولا يتندمون ولا يتقون ہوتے ہیں۔نہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نہ باز آتے ۲۵ الله ولا يرجعون۔فهذا التفسير يرجعون۔فهذا التفسير ہیں۔یہ تفسیر اُن کے لئے ایک تیر اور کلام کا ایک علیه سهم من سهام و گلم چرکہ ہے۔شاید کہ اس طرح وہ متنبہ ہو جا ئیں اور اللہ اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکیں۔ہم نے اس بكلام لعلهم يتنبهون وإلى يتوبون۔وإنا شرطنا فيه أن لا تفسیر کے لئے یہ شرط مقرر کی کہ ہم میں سے کوئی يجاوز فريق منا سبعين يومًا۔فریق بھی ستر دن سے تجاوز نہ کرے گا۔