اِعجاز المسیح — Page 48
اعجاز المسيح ۴۸ اردو تر جمه الحجة۔وأودع كلامه إعجازًا مبعوث فرمایا اور اس کے کلام میں اعجاز ودیعت کیا تا ليكون ظلا للمعجزة النبوية اس كا كلام معجزہ نبی کا ظل ہو جائے آپ پر ہزاروں عليه ألوف الصلاة والتحيّة۔ولا درود و سلام ہوں۔اور اس ( معجزہ کلام) سے ربّ يمس منه منقصة شأن كلام ربّ کائنات کے کلام کی شان میں کوئی کمی نہیں ہوئی الكائنات۔فإن الكرامات أظلال کیونکہ کرامات معجزات کا ہی پر تو ہوتی ہے اور اس للمعجزات۔وكذالك دمّر طرح جب کبھی بھی دشمنوں نے ماہر شکاری کی الله كل ما دبّر العدا كالصائد طرح تدبیر کی تو اللہ نے اُسے تباہ و برباد کر دیا اور وهدم كل ما بنوا من المكائد جو بھی مکر و فریب انہوں نے گھڑے اُس نے انہیں وأبطل كل ما حققوا مكيدة منہدم کر دیا۔اور جو بھی تدبیریں انہوں نے کیں وأخر كل ما قدموا حربةً اُس نے انہیں نا کام کر دیا۔اُن کے پہلے سے تیار (۲۲) وعطل كلّ ما نصبوا حيلة کرده ہر حربہ کو مؤخر کر دیا اور جو بھی انہوں نے حیلہ وهدم كل ما أشادوا بروجا سازی کی اُسے بیکار کر دیا اور جو بھی مضبوط قلعے مشيدة۔وأطفأ كلّ ما أوقدوا انہوں نے بنائے تھے انہیں پیوند خاک کر دیا۔اور نارًا۔وأغلق الدروب كلما جو آگ بھی انہوں نے بھڑکائی اُسے بجھا دیا اور أرادوا فرارا۔فما كان في جب بھی انہوں نے فرار ہونا چاہا اُس نے تمام وسعهم أن يبارزوا کابطال راہیں بند کر دیں۔اس طرح یہ اُن کے بس میں نہ المضمار۔أو يخرجوا من هذا رہا کہ وہ مردمیدان کی طرح مقابلے پر آئیں اور السجن بتسوّر الخنادق ان کے بس میں نہیں رہا کہ خندقوں اور فصیلوں کو والأسوار۔وما قدموا قدمًا إلَّا پھاند کر اس قید سے باہر نکل سکیں۔ان کی ہر پیش قدمی رجعوا بأنواع النكال۔حتى جاء کو مختلف النوع عذابوں کے ذریعے پسپا کر دیا وقت هذا التفسير الذي هو گيا۔یہاں تک کہ اس تفسیر نویسی کا وقت آن پہنچا نبل من النبال۔وإنا كملناه جو ترکش کے تیروں میں آخری تیر ہے۔ہم نے آخر