اِعجاز المسیح — Page 47
اعجاز المسيح ۴۷ اردو ترجمہ ومن حضرة ألقيت بها جرانی ہے اور اُس حضرت احدیت کی طرف سے ہے وحملت إليها إربي۔ وإنه في جس کے حضور میں نے اپنی گردن رکھ دی ہے اور اپنی ہر حاجت اس کی جناب میں پیش کر دی ہے۔ العقبى وهذه حبّى۔ وإني وہ عقبی اور اس دنیا میں میرا محبوب ا محبوب ہے ۔ یقیناً میں مسیحه و حمارى حمارة حفظه ولطفه قتبي۔ ولولا فضل الله اُس کا مسیح ہوں ۔ خدا کی حفاظت کا حصار میری سواری ہے اور اس کا لطف میرا پالان ہے۔ اگر اللہ ورحمته لکان کلامی ککلم کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو میرا کلام رات کو حاطب ليل۔ أو كغثاء سيل ۔ ایندھن جمع کرنے والے رطب و یا بس یا سیلاب ووالله إني ما قدرت على هذا کے خس و خاشاک کی طرح ہوتا اور بخدا میں اس بقريحة وقادة۔ بل بفضل من تفسیر کے کرنے پر اپنی روشن طبیعت کی وجہ سے الله وسعادة۔ وإن هذه المخدرة قادر نہیں ہوا بلکہ یہ اللہ کا فضل اور سعادت ہے۔ اس ماسفرت عن وجهها بيدي پردہ نشین کے چہرے پر سے پردے کا اتر نا میرے القصيرة ۔ ولكن بفضل الله و کوتاہ ہاتھوں سے نہیں ہوا بلکہ اللہ کے فضل اور اس عناياته الكثيرة۔ فإنه رأى کی عنایات بے پایاں سے ہوا۔ کیونکہ اُس نے دیکھا کہ اسلام بیابان میں پڑے ایسے مریض کی الإسلام كسقيم في موماة ۔ فيه طرح ہے جس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہو اور جو صحرا کی خشک لکڑیوں کی طرح پتھر پر پڑا ہوا اور اس پر ذلت سوار ہو اور اس کا پیرہن چیتھڑے صغار۔ وعليه أطمار ۔ فأدركه ہوں ۔ پھر اللہ خشک سالی کے وقت عین موقع پر كإدراك عهاد۔ لسنة جماد۔ و ہونے والی بارشوں کی طرح اسلام کی مدد کو آیا اور رحض وجهه و أزال وسخ اس کے چہرے کو دھو ڈالا اور اس پر صاف پانی ڈال مئين۔ وصب عليه الماء المعين کر سالہا سال کے گند کو دور کیا ۔ پس اتمام حجت کی فبعث عبدا من عباده لإتمام غرض سے اس نے اپنے بندوں میں سے ایک بندہ رمق حياة۔ ساقطًا على صلات كقذائف فلوات ۔ وعلاه