اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 163

اِعجاز المسیح — Page 47

اعجاز المسيح ۴۷ اردو تر جمه ومن حضرة ألقيتُ بها جرانی ہے اور اُس حضرت احدیت کی طرف سے ہے وحملت إليها إربي۔وإنه في جس کے حضور میں نے اپنی گردن رکھ دی ہے اور اپنی ہر حاجت اس کی جناب میں پیش کر دی ہے۔العقبى وهـذه حتى وإنى وہ عقبی اور اس دنیا میں میرا محبوب ہے۔یقیناً میں مسیحه وحمارى حمارة حفظه ولـطـفـه قتبي۔ولولا فضل الله اُس کا مسیح ہوں۔خدا کی حفاظت کا حصار میری سواری ہے اور اس کا لطف میرا پالان ہے۔اگر اللہ ورحمته لکان کلامی ککلم کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو میرا کلام رات کو حــاطـب لـيـل۔أو كغثاء سيل۔ایندھن جمع کرنے والے رطب و یابس یا سیلاب ووالله إني ما قدرت على هذا کے خس و خاشاک کی طرح ہوتا اور بخدا میں اس بقريحة وقادة۔بل بفضل من تفسیر کے کرنے پر اپنی روشن طبیعت کی وجہ سے الله وسعادة۔وإن هذه المخدرة قادر نہیں ہوا بلکہ یہ اللہ کا فضل اور سعادت ہے۔اس ما سفرت عن وجهها بیدی | پردہ نشین کے چہرے پر سے پردے کا اتر نامیرے القصيرة۔ولكن بفضل الله و کوتاہ ہاتھوں سے نہیں ہوا بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی عنایات بے پایاں سے ہوا۔کیونکہ اُس نے عناياته الكثيرة۔فإنه رأى دیکھا کہ اسلام بیابان میں پڑے ایسے مریض کی الإسلام كسقيم في موماة فيه طرح ہے جس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہو اور جو رمق حياة ساقطا على صحرا کی خشک لکڑیوں کی طرح پتھر پر پڑا ہو اور اس صلات كقذائف فلوات۔وعلاه پر ذلت سوار ہو اور اس کا پیرہن چیتھڑے صغار۔وعليه أطمار۔فأدركه ہوں۔پھر اللہ خشک سالی کے وقت عین موقع پر كإدراك عهاد۔لسنة جماد و ہونے والی بارشوں کی طرح اسلام کی مدد کو آیا اور رحض وجهه و أزال وسخ اس کے چہرے کو دھو ڈالا اور اس پر صاف پانی ڈال مئين۔وصب عليه الماء المعين کر سالہا سال کے گند کو دور کیا۔پس اتمام حجت کی فبعث عبدًا من عباده لإتمام غرض سے اس نے اپنے بندوں میں سے ایک بندہ