اِعجاز المسیح — Page 46
اعجاز المسيح ۴۶ र اردو تر جمه ما سألتُ۔وفتح على فحللت۔وسقـانـی مـا سقانی۔فوافیت دکھایا جو دکھایا اور مجھے پلایا جو پلایا اور جس طرح دروبها كما هداني۔وأعطى لى اس نے مجھے ہدایت دی اُس کے مطابق میں نے ان (قرآنی) راہوں کو پالیا اور جو میں نے مانگا وہ مجھے عطا کر دیا گیا اور مجھ پر کھولا گیا اور میں داخل ہو وكل ما رقمتُ فهو من أنفاس گیا۔جو کچھ میں نے رقم کیا ہے وہ محض علام خدا العلام۔لا من أفراس الأقلام کے انفاس قدسیہ کے طفیل ہے۔نہ کہ قلموں کے فما كان لي أن أقول إني أعلم گھوڑے دوڑانے سے۔میرا یہ حق نہیں کہ میں یہ من غيرى أو زاد منهم سيرى۔کہوں کہ میں دوسروں سے زیادہ عالم ہوں یا یہ کہ ولا أقول إن روحى التف میری تنگ و دو اُن سے زیادہ ہے۔نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میری روح اُن نو جوانوں کی ارواح سے بأرواح فتيان كانوا من الأدباء پیوستہ ہے جو ادباء میں سے تھے یا یہ کہ میں نے أو غالت نفسی جمیع نفائس انشاء پردازی کے جملہ محاسن پر پوری دسترس الإنشاء۔ولا أدعى أني انتهيت حاصل کر لی ہے۔نہ مجھے اس بات کا دعوی ہے کہ إلى فناء منتهى الأدب۔أو كمال ادب کے میدان میں میں انتہا تک پہنچا ہوا أكلت كل باكورة من المعانی ہوں۔یا یہ کہ میں نے عمدہ اور چنیدہ معانی کے تمام النخب بل دعوتُ مُخدّراتهنئے اور تازہ پھل کھائے ہیں۔نہیں بلکہ میں نے پرده نشینانِ ادب کو دعوت دی تو اس کی فوافتنی فتياته فقبلهن فتاه دوشیزائیں میرے پاس آئیں پس اُس جوان۔مفترة شفتاه متهللا مُحيّاه۔فلا نے خندہ لبوں اور دسکتے چہرے کے ساتھ انہیں تستطلعوني طلع أديب۔وما أنا قبول کر لیا۔پس مجھ سے اُس ادیب کی خبر نہ ٢٠ في بلدة الأدب إلا كغريب۔وكل پوچھو۔میں تو شہر ادب میں ایک مسافر کی طرح ما ترون منى فهو من تأیید ربّی ہوں۔جو کچھ تم مجھ سے دیکھتے ہو وہ محض تائید ربی