اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 163

اِعجاز المسیح — Page 45

اعجاز المسيح اردو تر جمه بطهارة البال۔لا بِعَذِرَةِ الأقوال ہے نہ کہ بول و براز کی طرح گندہ دہنی سے۔اور۔اور التي هي كالأبوال۔وصلاح اصلاح احوال علم و کمال کے اسلحہ سے حاصل ہوتی الحال بسلاح العلم والكمال۔ہے نہ کہ مکر و فریب اور فخر و تکبر سے۔ہلاکت ہے ان لا بالاحتيال والاختيال۔فویل لوگوں کے لئے جو مکر و فریب کے ذریعہ فتح حاصل للذين قصدوا الفتح بالمكائد کرنا چاہتے ہیں اور شکاری کی طرح کمین گاہوں ورصدوا مواضعها كالصائد۔میں بیٹھے شکار کی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔وإن هو إلَّا من أحكم اور فتح احکم الحاکمین کی طرف سے ہی آتی ۵۸۶ الحاكمين ينصر من يشاء ہے۔وہ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔اور ويُكفّل الصالحين۔فيندمل صالحین کا متکفل ہو جاتا ہے۔پس ان کے مجروح جريحهم ويستريح طليحهم۔صحتیاب ہوتے ہیں اور ان کے تھکے ماندے راحت پاتے ہیں۔اُن کی شوکت کو زوال نہیں اور مصابيحهم۔ومنصوره يُملأ من ولاتركد ريحهم۔ولا تَخُمُدُ نہ اُن کے چراغ بجھتے ہیں۔اللہ کے تائید یافتہ کو علم الفرقان ولسان العرب۔فرقان حمید اور عربی زبان کے علم سے اس طرح بھر كما يملأ الدلو إلى عقد دیا جاتا ہے۔جس طرح رسی کی گرہ تک پانی سے الكرب۔وإنه أنا ولا فخر۔وإن هذا يوم الفتح ويوم الضياء بعد اور بھرا ہوالبالب ڈول۔اور وہ میں ہوں اور کوئی فخر دعائى يذيب الصخر۔وإن يومى نہیں۔میری دعا پتھر کو موم کر دیتی ہے۔میرا یہ دن شب دیجور کے بعد فتح اور روشنی کا دن ہے۔آج الليلة الليلاء۔اليوم خرس الذين كانوا يهذرون۔وغلت بیہودہ گوئی کرنے والے گنگ ہو گئے اور اُن کے أيديهم إلى يوم يبعثون۔وكنتُ ہاتھ اُس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے جکڑ أطوف حول هذه الأوراق۔دیئے گئے۔میں ان ( قرآنی) اوراق کے گرد كسائل يطوف في السكك اس طرح طواف کرتا رہا ہوں جس طرح ایک سوالی والأسواق۔فأراني الله ما أراني۔گلی کوچوں میں چکر لگاتا ہے۔تو اللہ نے مجھے (۵۹)