اِعجاز المسیح — Page iv
ہو اور میں اسی سورۃ کی تفسیر بفضل اللہ وقومتہ اپنے دعوئی کے اثبات سے متعلق فصیح بلیغ عربی میں لکھوں گا۔انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں تمام دنیا کے علماء سے مدد لے لیں۔عرب کے بلغاء فصحاء بلا لیں۔لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کر لیں۔۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے سترہ دن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے ایک دن بھی زیادہ نہیں ہو گا۔اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب ان کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُر خیال کریں تو میں پانسور و پیہ نقدان کو دوں گا اور تمام اپنی کتا بیں جلا دوں گا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا اور اگر قضیہ برعکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر روز تک وہ کچھ بھی نہ لکھ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش۔صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا۔“ نیز فرمایا:۔66 ( اربعین نمبر۴ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیه صفحه ۴۵۰،۴۴۹ ) ”ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چار جز سے کم نہیں ہونی چا ہے۔۔۔او اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ار دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ ء تک جو سترے دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔“ اربعین نمبر ۴ ، روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۴ ۴۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معینہ مدت کے مطابق تفسیر تحریر فرما کر شائع فرما دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پر معارف تفسیر کا نام "اعجاز المسیح “ ہے۔احباب کے استفادہ کے لئے اس معرکۃ الآراء عربی تصنیف کا اردو تر جمہ بمعہ متن پیش ہے۔