اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page iv of 163

اِعجاز المسیح — Page iv

ہو اور میں اسی سورۃ سورۃ کی تفسیر بفضل الله وقوتہ اپنے دعوی کے اثبات سے متعلق فصیح بلیغ عربی میں لکھوں گا۔ انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں تمام دنیا کے علماء سے مدد لے لیں ۔ عرب کے بلغاء فصحاء بلا لیں۔ لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کر لیں ۔ ۱۵ / دسمبر ۱۹۰۰ء سے ستر دن تک اس کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے ایک دن بھی زیادہ نہیں ہوگا ۔ اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب ان کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پر خیال کریں تو میں پانسور و پیر نقد ان کو دوں گا اور تمام اپنی کتا بیں جلا دوں گا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا اور اگر قضیہ برعکس نکلا یا اس مدت تک یعنی ستر روز تک وہ کچھ بھی ۵۰۰ نہ لکھ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش ۔ صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم جھوٹ بولا ۔“ نیز فرمایا:۔ 66 اربعین نمبر ۴ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ حاشیه صفحه ۴۴۹ ، ۴۵۰ ) ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں ۔ فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہئے ۔ اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک جو ستر دن میں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔ اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔“ اربعین نمبر ۴ ، روحانی خزائن جلدی اصفحه ۴۸۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معینہ مدت کے مطابق تفسیر تحریر فرما کر شائع فرمادی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پر معارف تفسیر کا نام ” اعجاز المسیح “ ہے۔ احباب کے استفادہ کے لئے اس معرکۃ الآراء عربی تصنیف کا اردو ترجمہ بمعہ متن پیش ہے۔