اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 163

اِعجاز المسیح — Page 29

اعجاز المسيح ۲۹ اردو ترجمہ ان يعرض عن ذالك الخصام علم کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو علماء کرام کے ويستقيل من هذا المقام مع زمرے میں شمار کرتے ہوئے اس مقابلے سے دعاوى العلم وكونه من العلماء اعراض کرتا اور اس موقع سے دستکش ہو جاتا ۔ بلکہ الكرام۔ بل ينبغى أن يُسبر چاہیئے یہ کہ اُس کی عقل کو پرکھا جائے اور اُس کے عقله۔ ويُعرف حقله۔ وقد ادعى کھیت کی حقیقت جانی جائے ۔ اُس نے دعوی تو یہ أنه صبغ نفسه بألوان البلاغة کیا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو بلاغت کے مختلف كـجـلـود تُحَلَّى بالدباغة۔ فإن رنگوں سے اس طرح رنگا ہوا ہے جس طرح چڑے كان هذا هو الحق ومن الأمور كود باغت۔ باغت سے آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے ۔اگر الصحيحة الواقعة۔ فأى خوف ☆ اس کا دعوی حق پر بنی اور واقعتاً درست امر تھا تو اسے عليه عند هذه المقابلة۔ بل هو اس مقابلہ ( تفسیر نویسی ) کے وقت ایسا کیا خوف محل الإبشار والفرحة۔ لا وقت تھا ؟ بلکہ وہ تو شادمانی اور فرحت کا موقع تھا نہ کہ الفزع والرعدة۔ فإن كمالاته المخفية تظهر عند هذا الامتحان والتجربة۔ ويرى ظهور كماله۔ كما أن البئر خوفزدہ ہونے اور لرزہ طاری ہونے کا وقت کیونکہ اُس کے مخفی کمالات اس مقابلہ امتحان اور تحریر کے وقت ظاہر ہو جاتے ۔ اور سب لوگ اس الناس كلهم ما كان له مستورًا کی مخفی شان اور مرتبے کو جان لیتے ۔ اور یہ تو معلوم من الشأن والرتبة۔ ومن المعلوم ہی ہے کہ کسی مرد کامل کی قدرو قیمت اُس کے کمال أن قيمة المرء الكامل يزيد عند کے ظاہر ہونے سے بڑھ جایا کرتی ہے۔ بالکل اسی يُحب ويؤثر عند شرب زلاله۔ طرح جیسے ایک کنویں کے آب زلال پینے سے وہ پیارا اور محبوب بن جاتا ہے ۔ یہ امر مخفی نہیں کہ وہ شخص جو تفسیر قرآن پر دسترس رکھتا ہو بعض معارف القرآن۔ يفرح كل الفرح عند السؤال عن بعض معارف قرآن کے سوال پر بہت خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے ولا يخفى أن القادر على تفسير دباغت یعنی کچے چمڑے کو پکانا ، صاف کرنا اور رنگنا ۔ ۳۸