اِعجاز المسیح — Page iii
نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود پیش لفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ / جولائی ۱۹۰۰ء کو حق و باطل میں امتیاز کرنے کے لئے لا ہور میں ایک جلسہ کر کے اور قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکال کر بعد دعا چالیس آیات کے حقائق اور معارف فصیح و بلیغ عربی میں سات گھنٹے کے اندر لکھنے کے لئے تمام علماء کو عموماً اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو خصوصاً دعوت دی تھی۔مگر کسی نے اس چیلنج کو قبول نہ کیا اور نہ ہی پیر مہر علی شاہ صاحب نے اس اعجازی مقابلہ یعنی بالمقابل قرآنی آیات کی فصیح بلیغ عربی میں تفسیر لکھنے کی دعوت قبول کی تھی۔لیکن بغیر اطلاع دیئے لاہور پہنچ کر اور مباحثہ کی شرط لگا کر اُس نے لوگوں کو یہ دھوکا دیا تھا کہ گویا وہ بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہیں۔جب اُن کے مریدوں نے ہر جگہ ان کی جھوٹی فتح کا نقارہ بجایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گندی گالیاں دیں اور یہ مشہور کیا کہ پیر صاحب تو سچے دل سے بالمقابل عربی تفسیر لکھنے کے لئے تیار ہو گئے تھے اور اسی نیت سے لاہور تشریف لے گئے تھے لیکن خود دعوت دینے والے لا ہور نہ پہنچے اور بھاگ گئے اس لئے آپ نے اپنے اشتہار ۱۵ / دسمبر ۱۹۰۰ء مندرجہ اربعین نمبر ہم میں بالقاء ربانی تفسیر لکھنے کے لئے ایک اور تجویز پیش کی۔آپ نے فرمایا: اگر پیر جی صاحب حقیقت میں فصیح عربی تفسیر پر قادر ہیں اور کوئی فریب انہوں نے نہیں کیا۔تو اب بھی وہی قدرت اُن میں ضرور موجود ہو گی۔لہذا میں ان کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اسی میری درخواست کو اس رنگ پر پورا کر دیں کہ میرے دعاوی کی تکذیب کے متعلق فصیح بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھیں جو چارجز سے کم نہ