اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 163

اِعجاز المسیح — Page 21

اعجاز المسيح ۲۱ اردو ترجمہ ولو بارز لكلمه الشيخ بأبلغ اگر وہ مقابلہ میں آتا تو ہمارا پیر اپنے نہایت بلیغ الكلمات۔ وشجّ رأسه بكلام هو كلمات سے اُسے زخمی کر دیتا اور اپنے سنگ صفت كالصفات في الصفات کلام سے اس کا سر توڑ دیتا۔ اسی طرح وہ بیہودہ وكذالك كانوا يهذرون۔ کلامی کرتے تھے اور مجھ سے استہزاء کرتے اور مجھے گالیاں دیتے تھے۔ بخدا میں اپنے نفس کو ويستهزء ون بي ويسبون ۔ ووالله لا أحسب نفسي إلا مدفون میت کی طرح خیال کرتا ہوں یا ویران گھر کی كميتٍ تُربَ۔ أو كبيتٍ خُرَبَ۔ طرح ۔ لوگ مجھے کچھ شے سمجھتے ہیں حالانکہ میں لائے محض ہوں ۔ میں تو اپنے رب کے سائے کی والناس يحسبونني شيئًا ولستُ طرح ہوں ۔ میری کیا مجال تھی کہ میدانِ مباحثہ بشيء۔ وما أنا إلا لربّي كفيء۔ وما كان لي أن أبارز وأدعو العدا۔ ولكن الله أخرجني لهذا میں نکلوں اور دشمنوں کو للکاروں لیکن اللہ نے مجھے اس جنگ کے لئے نکالا ۔ جب میں نے تیر چلایا تو میں نے نہیں چلایا اللہ نے چلایا ۔ میرا ایک قادر و توانا الوغى۔ وما رميت إذ رميت حبیب ہے اور اس کی اعانت میرے لئے کافی ہے ولكن الله رمی۔ ولی حب قدیر میں مر چکا تو میری تجہیز وتکفین کے بعد وہ میرا وإعانته تكفيني۔ ومن فظهر محبوب مجھ میں ظاہر ہوا اور میرے مرنے کے بعد الحب بعد تجهیزی وتکفینی۔ اس نے مجھے باغ و بہار جیسا کلام مرحمت فرمایا اور ووهب لي بعد موتي كلاما ایسا سخن عطا کیا جو اس پانی سے بھی زیادہ صاف و كالرياض۔ و قولا أصفى من ماء شفاف ہے جو سنگریزوں والی زمین پر رواں ہو اور يسيح في الرضراض۔ وحجة الى تحت بالغہ عنایت کی جو ایک جان لیوا ناگ کی بالغة تلدغ الباطل كالنضناض۔ طرح باطل کو ڈستی ہے اور یہ سب کچھ میرے رب وكلها من ربي وما أنا إلَّا خاوی کی طرف سے ہے میں تو تہی دامن ہوں ۔ اور مجھے الوفاض ۔ وأُمرت أن أنفق هذه یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر خاص و عام پر یہ یہ ۲۷