اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 163

اِعجاز المسیح — Page 17

اعجاز المسيح ۱۷ اردو تر جمه غير مستعينين۔فما كان أحد بغير مدد لئے لکھیں لیکن ان میں سے کسی کو یہ جرات منهم أن يقبل الشرط نہ ہوئی کہ وہ اس پیش کردہ شرط کو قبول کرتا۔اور اس (۲۲) المعروض۔ويتبع الأمر قرار داده امر کی پیروی کرتا اور میرے بالمقابل المفروض۔ويقعد بحذائی بیٹھتا اور میرے جیسی تفسیر تحریر کرتا بلکہ وہ نور کو ويملى التفسير كإملائي۔بل بجھانے اور مامور کو جھٹلانے کے لئے عیارانہ جعلوا يكيدون ليطفئوا النور۔ويُـكـذبـوا المأمور۔وكان أحد طریق اختیار کرنے لگ گئے۔اُن میں سے ایک شخص مهر علی نامی تھا جسے اُس کے رفقاء شیخ کامل اور منهم يُقال له مهر على۔وكان بہت بڑا ولی سمجھتے تھے۔اس کے اس دعوی کے بعد يزعم أصحابه أنه الشيخ الكامل والولى الجلي۔فلما دعوته که وه قرآن کا علم رکھتا ہے اور وہ اہل معرفت میں بهذه الدعوة۔بعد ما ادعى أنه سے ہے تو اُس پر جب میں نے اُسے تفسیر نویسی کی يعلم القرآن وأنه من أهل دعوت دی تو اس نے میری تفسیر کے مقابلہ پر تفسیر المعرفة۔أبى من أن يكتب لکھنے سے صاف انکار کر دیا۔وہ تو ہے ہی نبی ، اگر تفسيرا بحذاء تفسیری و كان وه ہمدانی یا حریری کی طرح بھی ہوتا تو بھی اُس کے غبيا ولو كان الهمدانی بس میں نہ تھا کہ وہ میرے جیسی تحریر لکھ سکتا۔اور اس أو الحريري۔فماكان في وسعه ان کے ساتھ ہی وہ لوگوں سے ڈرتا بھی تھا اور خوب يكتب كمثل تحریری۔ومع جانتا تھا کہ اگر وہ تفسیر لکھنے سے پیچھے ہٹا تو اس ذالك كان يخاف الناس۔وكان صورت میں نہ تو اسے غلبہ حاصل ہوگا اور نہ ہی اپنے يعلم أنه إن تخلف فلا غلبة ولا مد مقابل سے جنگ کر سکے گا۔لہذا اس نے سازش جحاسَ۔فكاد كيدًا وقال إنى سوف أكتب التفسير كما کی اور کہا کہ جیسا کہ اشارہ کیا گیا ہے میں (مہر علی ) أشير۔ولكن بشرط أن تباحثنى بہت جلد تفسیر لکھوں گا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تم قبله بنصوص الأحاديث نصوص احادیث اور قرآن کی روشنی میں میرے والقرآن۔ويُحكم من كان لك ساتھ مباحثہ کرو اور ایسے شخص کو حاکم بنایا جائے جو