اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 163

اِعجاز المسیح — Page 16

اعجاز المسيح ۱۶ اردو ترجمہ وكلمى منبع المعارف کو معارف اور نکات کا سر چشمہ بنایا ہے ۔اس نے والنكات ۔ وما أعطاني سيفا و مجھے شمشیر و سناں نہیں دیئے بلکہ ان کی جگہ برہان و سنانا ۔ وأقام مقامهما برهانا بیان عطا کئے تا کہ وہ میرے ہاتھ پر متفرق کلمات کو وبيانا ۔ ليجمع على يدى الكلم جمع کر دے اور میرے ذریعے بکھرے ہوئے امور المتفرقة۔ ويُنظم بي الأمور المتبدّدة ۔ و يسكن القلوب کو ایک لڑی میں پرو دے۔ لرزیدہ دلوں کو تسکین الراجفة۔ ويُبكت الألسنة بخشے جھوٹ پھیلانے والی زبانوں کو خاموش کر المرجفة۔ ويُنير الخواطر دے تاریک دلوں کو منور کر دے اور فرسودہ دلائل کو المظلمة۔ ويُجدّد الأدلة ایسی تازگی عطا کر دے کہ کوئی معاملہ ٹیڑھا اور کوئی المخلقة۔ حتى لا يبقى أمر غير راه کج نہ رہے ۔ حاصل کلام یہ کہ بیان اور مستقيم۔ ولا نهج غير قويم۔ معارف میرے معجزات میں سے ہیں۔ میری فحاصل القول ان البيان تلواریں میرے نشانات اور کلمات ہیں۔ میں نے والمعارف من معجزاتي۔ وإن اپنے بعض دشمنوں کو یہ معجزہ دکھانے کے لئے مرهفاتی آیاتی و کلماتی و کنت دعوت بعض أعدائي لإراءة دعوت دی کہ شائد اس طرح اللہ انہیں شرح صدر هذه المعجزة۔ لعل الله يشرح عطا فرمائے یا انہیں نورِ معرفت سے حصہ عطا صدورهم أو يجعل لهم نصيبا كر دے۔ پس میں نے اُن سے کہا کہ اگر تم من نور المعرفة۔ فقلت إن كنتم میرے معجزے سے انکار کرتے ہو اور ایک جنگجو کی تنكرون بإعجازی و تصولون طرح مجھ پر حملہ کرتے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ تمہیں على كالغازي۔ وتظنون أنكم قرآن کا علم اور سحبان وائل جیسی بلاغت عطا أُعطيتــم عـلــم القرآن۔ وبلاغة کی گئی ہے۔ تو آؤ ہم اپنے مددگاروں کو بلائیں اور سحبان ۔ فتعالوا ندع شهداء نا وشهداء كم۔ وعلماء نا و علماء كم تم اپنے مددگاروں کو بلاؤ۔ ہم اپنے علماء کو اور تم ثم نقعد مقابلين۔ ونكتب تفسير اپنے علماء کو بلاؤ ۔ پھر ہم آمنے سامنے بیٹھ جائیں سورة مرتجلین منفردین اور کسی ایک سورت کی فی البدیہہ تفسیرا کیلے اکیلے