اِعجاز المسیح — Page 15
اعجاز المسيح ۱۵ اردو تر جمه ولكل وقت حکم آخر فی کتاب مبین میں ہر وقت کے لئے ایک الگ حکم الكتاب المبين۔بل يقتضی ہے۔بلکہ اس زمانہ میں اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا ہے حكمة الله في هذه الأوقات۔أن کہ دین حق کی دلائل اور نشانات کے ذریعے تائید يؤيد الدين بالحجج والآيات۔کی جائے اور ملت کے امور کو معقولیت کی آنکھ سے وتُـنـقـد أمــور الـمـلـة بـعـيـن پر کھا جائے اور فروع و اصول بنظر غائر دیکھے المعقول۔ويُمعن النظر في الفروع والأصول۔ثم يُختار جائیں۔بعد ازاں ایسا طریق منتخب کیا جائے جس مسلك يهدى إليه نور الإلهام كى جانب نور الہام رہبری کرے۔اور جسے عقل ويضعه العقل في موضع القبول بپایہ قبولیت جگہ دے۔اور یہ کہ ایسی تیاری کی وأن يُعد عُدّة كمثل ما أعد جائے جیسی دشمنوں نے تیاری کی ہے۔تلوار کو کند الأعداء۔ويُفلّ السيف ويُحدّ اور عقل و دانش کو تیز کیا جائے۔تحقیق و تدقیق کی راہ الدهاء۔ويُسلك مسلك اپنائی جائے اور اس عمدہ شراب کے چھلکتے ہوئے التحقيق والتدقيق۔وتشرب جام پیئے جائیں کیونکہ ہمارے دشمن مذہب کے الكأس الدهاق من هذا الرحيق۔فإن أعداء نا لا يسلّون النواحل لئے تلوار نہیں سو نتے اور نہ ہی شمشیر و سنان کے زور للنحلة۔ولا يشيعون عقائدهم سے اپنے عقائد کی اشاعت کرتے ہیں بلکہ انواع بالسيوف والأسنة۔بل واقسام کے باریک در بار یک مکر و فریب استعمال يستعملون ما لطف و دق من کرتے ہیں اور ایک شکاری کی مانند مختلف روپوں أنواع المكائد۔ويأتون في صور میں آتے ہیں۔اس زمانہ میں ہمارے لئے اللہ مختلفة كالصائد۔وكذالك نے یہی چاہا ہے کہ ہم عصائے باطل کو دلیل سے أراد الله لنا في هذا الزمان۔أن نكسر عصا الباطل بالبرهان لا توڑیں نہ کہ نیزوں سے۔پس اُس (اللہ ) نے بالسنان۔فأرسلني بالآيات مجھے نشانات کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے نہ کہ لا بالمرهفات۔وجعل قلمی تلواروں کے ساتھ اور اُس نے میرے قلم اور کلام