اِعجاز المسیح — Page 156
(,) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور ضرور خدا تعالیٰ مبعوث فرمائے گا اس امت کے لئے کل صدیوں کے سر پر ایک شخص ( مسیح موعود ) کو جو اس امت کے لئے دین کی تجدید کرے گا۔یہ حدیث شریف قریب تو اتر کے درجہ اور اجماع کے مرتبہ کو پہنچی ہوئی ہے اگر چہ مفسر اور محدث یا صوفی اس کے کچھ ہی معنی کریں مگر اس کا مطلب جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حدیث در حقیقت مسیح موعود کے بارہ میں ہے کیونکہ جس قدر مجدد پہلے گزرے یا آئندہ ہوں وہ سب ظنی ہیں اور مجمل طور سے ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ ہر صدی کے سر پر کوئی نہ کوئی مجدد ہوا ہو مگر مفصل اور یقینی طور سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس قدر صدیاں جو گزریں کون کون مجدد ہوئے؟ کس لئے کہ آنحضرت صلعم نے کوئی فہرست مجد دوں کی نہیں دی مگر ہم مسیح موعود کے بارہ میں یقینی اور قطعی دلائل اور صحیح رائے سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجد د جو آنحضرت نے اپنے محاذ اور مقابلہ میں بیان فرمایا کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اول میں میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ہے اور درمیانی زمانہ فیج اعوج ہے فی الحقیقت مسیح موعود ہے جس کی بعثت کا یہ نشان بتایا کہ وہ اُس زمانہ میں مبعوث ہو گا جس زمانہ میں کل صدیوں کے سر اکھٹے ہو جائیں گے۔پس ہم جو بنظر غور دیکھتے ہیں تو وہ زمانہ یہی زمانہ ہے جس میں مجدد اعظم مبعوث ہوا اور تمام صدیوں کے سر اُس نے لئے یعنی ۱۳۱۸ھ اور ۱۹۰۱ء اور ۱۳۰۷ فصلی اور ۱۹۵۷ بکرمی اور نیز صدیوں کی ماں جو ساتواں ہزار ہے موجود ہوا۔پس اس مجموعہ سنین سے عَلى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ کی پیشگوئی پوری ہوئی اور خسوف و کسوف کی حدیث اور کلام مجید کی آیت وَآخَرِينَ مِنْهُم اسی کی مصدق ہیں۔پس وہ مسیح موعود مجدد معہود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔الحمد لله الراقم محمد سراج الحق نعمانی على ذلك