اِعجاز المسیح — Page 155
(ج) وَرُسُلی کے خدا نے ہمیشہ کے لئے جب تک کہ دنیا کا انتہا ہو یہ حجت اُن پر پوری ج کے کرنی تھی کہ باوجود یکہ علم اور لیاقت کے یہ حالت ہے کہ ایک شخص کے مقابل پر ہزاروں ان کے عالم و فاضل کہلانے والے دم نہیں مار سکتے پھر بھی کافر کہنے پر دلیر ہیں کیا لازم نہ تھا کہ پہلے علم میں کامل ہوتے پھر کافر کہتے جن لوگوں کے علم کا یہ حال ہے کہ ہزاروں مل کر بھی ایک شخص کا مقابلہ نہ کر سکے چارجز کی تفسیر نہ لکھ سکے ان کے بھروسہ پر ایک ایسے مامور من اللہ کی مخالفت اختیار کرنا جو نشان پرنشان دکھلا رہا ہے بڑے بدقسمتوں کا کام ہے بالآخر ایک اور ہزار شکر کا مقام ہے کہ اس موقعہ پر ایک پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی پوری ہوئی اور وہ یہ ہے کہ اس سقردن کے عرصہ میں کچھ باعث امراض لاحقہ اور کچھ بباعث اس کے کہ بوجہ بیماری بہت سے دن تفسیر لکھنے سے سخت معذوری رہی اُن نمازوں کو جو جمع ہوسکتی ہیں جمع کرنا پڑا اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو در منشور اور شع باری اور تفسیر ابن کثیر وغیرہ کتب میں ہے کہ تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة بن ح موعود کے لئے نماز جمع کی جائے گی۔اب ہمارے مخالف علماء یہ بھی بتلاویں کہ کیا وہ اس بات کو مانتے ہیں یا نہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو کر مسیح موعود کی وہ علامت بھی ظہور میں آگئی اور اگر نہیں مانتے تو کوئی نظیر پیش کریں کہ کسی نے مسیح موعود کا دعویٰ کر کے دوماہ تک نمازیں جمع کی ہوں یا بغیر دعوی ہی نظیر پیش کرو۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر مرزا غلام احمد قادیانی ۲۰ فروری انشاء