اِعجاز المسیح — Page 139
اعجاز المسيح ۱۳۹ اردو تر جمه فالحمد لله على هذا الافضال | پس اس فضل و انعام پر اللہ کے لئے ہی سب والإنعام۔وحاصل ما قلنا في هذا حمد ہے۔پس اس باب میں ہماری گفتگو کا ماحصل الباب۔أن الفاتحة تبشر بكون یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ رب الارباب کے فضل سے مسیح المسيح من هذه الأمة فضلا من کے اس امت میں سے ہونے کی بشارت دیتی ہے۔رب الأرباب۔فقد بُشِّرُنا من پس سورۃ فاتحہ کے ذریعے ہمیں یہ خوشخبری دی گئی الفاتحة بأئمةٍ منا هم كأنبياء بنی ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہم میں ائمہ تو إسرائيل۔وما بُشِّرُنا بنزول نبی ہوں گے لیکن آسمان سے کسی نبی کے نازل ہونے من السماء فتَدبَّرُ هذا الدليل کی ہمیں بشارت نہیں دی گئی۔پس اس دلیل پر غور وقد سمعت من قبل أن سورة کر۔تو اس سے پہلے سُن چکا ہے کہ سورہ نور نے النور قد بشرتنا بسلسلة خلفاء ہمیں ان خلفاء کے سلسلہ کی بشارت دی ہے جو تشابه سلسلة خلفاء الكليم۔(موسى) کلیم اللہ کے سلسلہ خلفاء کے ساتھ وكيف تتم المشابهة من دون أن مشابہت رکھیں گے اور یہ مشابہت کلیم اللہ کے (۱۸۵) يظهر مسيح كمسيح سلسلة سلسلہ کے مسیح کی طرح نبی کریم ع کے سلسلے الـكـلـيـم فـي آخـر سلسلة النبي الكريم۔وإنا آمنا بهذا الوعد فإنه کے آخر میں ایک مسیح کے ظہور کے بغیر کس طرح من رب العباد۔وإن الله لا يخلف الله لا يخلف پوری ہو پوری ہوسکتی ہے۔ہمارا اس وعدہ پر ایمان ہے کیونکہ یہ وعدہ ربّ العباد کی طرف سے ہے اور اللہ الميعاد۔والعجب من القوم أنهم ما نظروا إلى وعد حضرة الكبرياء وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔اس قوم پر تعجب ہے کہ۔وهل يُوفّـى ويُنجز إلَّا الوعد انہوں نے حضرت کبریاء کے وعدہ کی طرف نظر ہی فلينظروا بالتقوى والحياء۔وهل نہیں کی اور خدائی وعدہ تو اٹل ہوتا ہے اور ضرور پورا في شرعة الإنصاف أن ينزل ہوتا ہے۔پس انہیں تقویٰ اور حیا کے ساتھ غور کرنا المسيح من السماء ويُخلف چاہیئے۔کیا یہ طریق انصاف ہے کہ مسیح کو آسمان سے وعد مماثلة سلسلة الاستخلاف نازل کیا جائے اور استخلاف کے سلسلے کی مماثلت کے