اِعجاز المسیح — Page 132
اعجاز المسيح ۱۳۲ اردو تر جمه هذا يقيني ومنزّة عن الشبهات شبہات سے پاک ہے۔قرآن شریف نے یہی کہا هذا ما قال القرآن ويعلمه ہے اور علماء اسے جانتے ہیں۔پھر تم اس (کھلی بات) العالمـون۔فبای حدیث بعدہ کے بعد کس بات پر ایمان لاؤ گے۔قرآن کریم تؤمنون۔وقد قال القرآن إن عیسی نبی الله قد مات۔ففكّرُ نے تو کہہ دیا ہے کہ اللہ کے نبی عیسی" وفات پاچکے في قوله فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ، ولا ہیں۔پس اللہ کے قول فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي پر غور تُـخـــي الأموات۔ولا تـنـصــر کر اور مُردوں کو زندہ نہ کر۔کذب بیانیوں اور النصارى بالأباطيل والخزعبیلات بیہودہ کہانیوں سے عیسائیوں کی مدد نہ کر۔اُن کے وفتَنُهم ليست بقليلة فلا تزِدُها فتنے کم نہیں۔پس اپنی جہالتوں سے ان میں اضافہ بالجهلات۔وإن كنت تحت نہ کر۔اگر تجھے کسی نبی کی زندگی پسند کرنا ہے تو پھر حياة نبـي فـآمِنُ بحياة نبينا خير خير الكائنات ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی الكائنات۔وما لك أنك زندگی پر ایمان لا۔تجھے کیا ہو گیا ہے کہ وہ جو ۱۷۲۶ تحسب مَيْتًا مَن كان رحمة رحمة للعالمین ہے اُسے تو فوت شدہ خیال کرتا للعالمين۔وتعتقد أن ابن مريم ہے اور ابن مریم کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتا ہے من الأحياء بل من المُحيين کہ وہ زندوں میں سے بلکہ زندہ کرنے والوں میں انظُرُ إلى النور“ ثم انظر إلى "الفاتحة“۔ثم ارجع البصر ليرجع البصر بالدلائل سے ہے۔سورہ نور پر نگاہ ڈال پھر سورہ فاتحہ پر نظر ڈال پھر نظر کو پھیر تا نظر دلائل قاطعہ کے ساتھ لوٹے۔کیا تو اس سورۃ میں صِرَاطَ الَّذِينَ القاطعة۔ألست تقرأ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ نہیں پڑھتا۔اس کے بعد تو في هذه السورة۔فأَنَّى تُؤفَك بعد کہاں بہک رہا ہے۔کیا تو اپنی دعا کو بھول جاتا ہے هذا أتنسى دعائك أو تقرأ يا أسے غفلت سے پڑھتا ہے؟ کیونکہ تو نے اپنے بالغفلة۔فإنك سألت عن رب سے اس دعا اور التجا میں یہ طلب کیا تھا کہ لے پس جب تو نے مجھے وفات دے دی۔(المائدة: ۱۱۸ ) الفاتحة: