اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 163

اِعجاز المسیح — Page 132

اعجاز المسيح ۱۳۲ اردو ترجمہ هذا يقيني ومنزّة عن الشبهات شبہات سے پاک ہے۔ قرآن شریف نے یہی کہا هذا ما قال القرآن ویعلمہ ہے اور علماء اسے جانتے ہیں۔ پھر تم اس (کھلی بات ) العالمون۔ فبأي حديث بعده کے بعد کس بات پر ایمان لاؤ گے ۔ قرآن کریم تؤمنون۔ وقد قال القرآن إن نے تو کہہ دیا ہے کہ اللہ کے نبی عیسی" وفات پاچکے عیسی نبي الله قد مات ۔ ففكّر في قوله فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ، ولا ہیں۔ پس اللہ کے قول فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِي پر غور تحي الأموات۔ ولا تنصر کر اور مُردوں کو زندہ نہ کر۔ کذب بیانیوں اور النصارى بالأباطيل والخزعبيلات بیہودہ کہانیوں سے عیسائیوں کی مدد نہ کر ۔ اُن کے وفتنهم ليست بقليلة فلا تزدها فتنے کم نہیں ۔ پس اپنی جہالتوں سے ان میں اضافہ بالجهلات۔ وإن كنت تحب نہ کر ۔ اگر تجھے کسی نبی کی زندگی پسند کرنا ہے تو پھر حياة نبي فآمن بحياة نبينا خير خير الكائنات ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی الكائنات۔ وما لك أنك زندگی پر ایمان لا ۔ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ وہ جو ۱۷۲ تحسب ميتا من كان رحمة رحمة للعالمین ہے اُسے تو فوت شدہ خیال کرتا للعالمين۔ وتعتقد أن ابن مريم ہے اور ابن مریم کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتا ہے من الأحياء بل من المحيين۔ کہ وہ زندوں میں سے بلکہ زندہ کرنے والوں میں انظر إلى النور ثم انظر إلى "الفاتحة۔ ثم ارجع البصر سے ہے ۔ سورہ نور پر نگاہ ڈال پھر سورہ فاتحہ پر نظر ڈال پھر نظر کو پھیر تا نظر دلائل قاطعہ کے ساتھ ليرجع البصر بالدلائل القاطعة الست تقرأ لوٹے ۔ کیا تو اس سورۃ میں صِرَاطَ الَّذِينَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ نہیں پڑھتا ۔ اس کے بعد تو في هذه السورة۔ فأَنَّى تُؤفَك بعد کہاں بہک رہا ہے۔ کیا تو اپنی دعا کو بھول جاتا ہے هذا أتنسى دعائك أو تقرأ يا اُسے غفلت سے پڑھتا ہے؟ کیونکہ تو نے اپنے بالغفلة۔ فإنك سألت عن رب سے اس دعا اور التجا میں یہ طلب کیا تھا کہ کل لے پس جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ (المائدة: ۱۱۸) الفاتحة: