اِعجاز المسیح — Page 112
اعجاز المسيح ۱۱۲ اردو تر جمه أرفع من الخيالات۔وأبعد من | كنه خیالات سے ارفع اور قیاسات سے بعید تر القياسات۔وإذا قلت محمد ہے۔اور جب آپ مُحَمَّدٌ رَّسُول اللہ کہتے ہیں رسول الله فمعناه أن محمدًا تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ محمد علیہ اس ذات مظهر صفات هذه الذات باری تعالیٰ کی صفات کا مظہر اور کمالات میں اُس وخليفتها في الكمالات۔ومُتمم دائرة الظلية وخاتم الرسالات۔کے جانشین اور دائرہ ظلیت کو مکمل کرنے والے (۱۴۷) فحاصل ما أبصر وأرى أن نبينا اور خاتم رسالت ہیں۔میری بصیرت اور مشاہدہ کا خير الورى۔قدورث صفتی حاصل یہ ہے کہ ہمارے نبی خیر الوریٰ ہمارے ربنا الأعلى۔ثم ورث الصحابة ربّ اعلی کی اِن دونوں صفات ( رحمن اور رحیم ) الـحـقـيـقـة المحمدية الجلالية کے وارث ہیں اور آپ کے بعد جیسا کہ میرے كما عرفت فيما مضى۔وقد گزشتہ بیان سے آپ جان چکے ہیں آپ کے سلم سـيـفـهـم فـي قـطـع دابر المشركين ولهم ذكر لا صحابه حقیقت محمدیہ جلالیہ کے وارث ہوئے اور اُن کی تلوار مشرکوں کے قلع قمع کرنے يُنسى عند عبدة المخلوقين۔وإنهم أدوا حق صفة میں مسلم ہے۔اُن کی یاد مخلوق کے پجاری فراموش المحمدية۔وأذاقوا كثيرا من نہیں کر سکتے۔انہوں نے صفت محمدیت کا حق ادا الأيدى الحربية۔وبقيت بعد کر دیا اور اپنے جنگی کارناموں سے بہتوں کو خوب ذالك صفة الأحمدية التي مزا چکھایا۔اس کے بعد باقی رہی صفت احمدیت مُصَبغة بالألوان الجمالية۔جو جمالی رنگوں میں رنگین اور محبیت کی آگ محرقة بالنيران المُحبّية۔میں سوختہ ہے۔سوسیح موعود اس صفت (احمدیت ) فورثها المسيح الذي بعث في کا وارث ہوا، جو ذ رائع ( ترقی ) کے خاتمہ، دشمنوں زمن انقطاع الأسباب۔وتكسر ۱۳۸) الملة من الأنياب۔وفقدان کی کچلیوں سے ملت کی بربادی ، مددگاروں اور الأنصار والأحباب۔وغلبة دوستوں کے معدوم ہونے ، دشمنوں کے غلبہ اور الأعداء وصول الأحزاب ليُرِى مخالف جماعتوں کے حملے کے وقت مبعوث کیا گیا