ابن مریم — Page 161
۱۳ کے مرید نے جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا ، یہودیوں سے تیس روپے لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کروایا۔ایسا ہی میرے مقدمہ میں ہوا کہ عبد الحمید نامی ایک میرے ادعائی مرید نے نصرانیوں کے پاس جاکر اور ان کی طمع دہی میں گرفتار ہو کر ان کی تعلیم سے میرے پر ارادہ قتل کا مقدمہ بنایا۔کتاب البریہ - روحانی خزائن۔جلد ۱۳۔صفحہ ۴۵) (ii) ایک عدالت سے دوسری میں مقدمہ کا انتقال سیح موسوی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوا۔پیلاطوس نے یہ مقدمہ ہیرودیس کے پاس بھیجا مگر ہیرودیس نے دوبارہ پیلاطوس کے پاس یہ کہتے ہوئے بھجوا دیا کہ تم کبھی اس کی سماعت کے مجاز ہو۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے۔” پیلاطوس نے پوچھا کیا یہ آدمی گلملی ہے ؟ اور یہ معلوم کر کے کہ ہیرودیس کی عملداری کا ہے اسے ہیرودیس کے پاس بھیجا کہ وہ بھی ان دنوں یروشلیم میں تھا۔پھر ہیرودیس نے۔۔۔۔اس کو پیلاطوس کے پاس واپس بھیجا۔ee (لوقا ۲۳ ۶۰ تا ۱۲) مسیح محمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقدمہ بھی ایک عدالت سے دوسری میں منتقل ہوا۔پہلے یہ مقدمہ اے۔ای۔مارٹینو صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں تھا۔مگر اس نے ۱۷ اگست ۱۸۹۷ء کو یہ مقدمہ خارج کر کے گورداسپور کی عدالت میں بھجوایا اور لکھا کہ " میں نے وارنٹ کا جاری کرنا روک دیا ہے کیونکہ یہ مقدمہ