ابن مریم — Page 250
۲۵۶ شخص کی خبر دی گئی ہے جو ان صفات کا حامل ہے۔ظاہر ہے کہ وہ شخص اور اس آیت میں بیان کردہ شخص ایک ہی وجود ہے۔کیونکہ پیش گوئی کی علامات اگر مشترک ہوں تو ” مشارالیہ“ بھی ایک ہی شخص ہوتا ہے۔خصوصا جبکہ دونوں پیش گوئیاں ایک ہی سلسلہ اور ایک ہی زمانہ کے متعلق ہوں۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے الفاظ یہ ہیں۔والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد (بخاري، كتاب البيوع، باب قتل الخنزير۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ؟ عنقریب تم میں حکم و عدل کی حیثیت سے نازل ہو گا اور صلیب کو توڑے گا۔خنزیر قتل کرے گا اور جنگ کو روکے گا اور مال لٹائے گا حتی کہ کوئی اس مال کو قبول نہیں کرے گا۔حدیث کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم آخری زمانہ میں اپنی امت میں آنے والے مسیح کے بارہ میں یہ خبر دیتے ہیں کہ وہ اموال لٹانے والا ہے۔حدیث کے ان الفاظ کو اور لفظ کو شر کو آمنے سامنے رکھیں تو یہ دونوں الفاظ بالکل ہم معنی ہیں یعنی ” مال لٹانے والا " ، " بے انتہا صدقہ و خیرات کرنے والا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں الفاظ صاف طور پر ایک ہی وجود کی ایک ہی صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی میں شخص کی تعیین بھی کر دی گئی ہے اس لئے اس تعیین کو ہم سورہ کوثر کی پیش گوئی پر چسپاں کرنے میں نہ صرف حق بجانب ہیں بلکہ اس کے سوا ہمارے لئے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی مہبط وحی قرآن ہیں اس لئے قرآن کریم کے معنے کرنے کے سب سے اول حق دار آپ ہیں۔پس جب آپ نے خیر امت میں آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والے مسیح کو اموال لٹانے اس