ابن مریم — Page 77
مثیل قرار دیا ہے۔فرمایا : 29 اگر نمونہ یہود خواہی بہیں علماء سوء۔(الفوز الكبير - صفحہ ۱۰) کہ اگر یہود کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہو تو علماء سوء کو دیکھ لو۔( iv ) عوام کی حالت مسیح موسوی : کے بارہ میں لکھا ہے۔حضرت عیسی علیہ السّلام کے وقت کے عام لوگوں ملا کی اور متنی کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ ہے اور جو تبدیلیاں اتنے عرصہ کے اندر کسی ملک میں پیدا ہو سکتی ہیں وہ اس ملک میں واقع ہو چکی تھیں۔جو زبان ملاکی کے زمانہ میں مروج تھی وہ اب معدوم ہو گئی تھی۔اور نئی رسمیں نئے رواج ، نئے خیالات ، نئے طریقے اور نئے فرقے برپا ہو گئے تھے۔غرضیکہ ملک کی ایسی کا یا پلٹ گئی تھی کہ اگر ملا کی زندہ ہو کر اپنے ملک اور اپنے لوگوں کو دیکھتا تو حیرت کا پتلا بن جاتا اور مشکل سے ان کو پہچانتا۔(حیات مسیح۔صفحہ ۵۵) مسیح محمدی اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام کے وقت لوگوں کا ایسا ہی حال تھا۔چنانچہ لکھا ہے۔"اگر آج توحید کا سبق دینے والا اور دنیا میں وحدت و یگانگی پھیلانے والا تھوڑی ہی دیر کے لئے ہمارے ہاں آوے اور امت کا حال دیکھے تو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری اور سارے عالم کی جان ہے کہ وہ مشکل سے پہچانے گا کہ یہ اس کی امت ہے جس