ابن مریم — Page 23
۲۳ حضرت عیسی علیہ السلام کی اس تاویل سے یہود کا یہ عقیدہ کہ ایلیا بجسم عصری بگولے میں آسمان پر چلے گئے۔" غلط ثابت ہو گیا۔یعنی نہ ہی وہ آسمان پر گئے اور نہ ہی وہ واپس آئیں گے بلکہ ان کی آمد سے مراد متیل ایلیا کی آمد ہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اپنے ایلیا ہونے سے انکار کر کے یہودیوں کے اس عقیدہ کو باطل کر دیا کہ ایلیا اسی جسم کے ساتھ آئے گا۔لیکن اس کی بروزی آمد کے بارہ میں بتایا کہ میں جیسا کہ یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔" اور یہود تو راہ درست کرنے والے کو ایلیا ہی سمجھتے تھے۔پس حضرت یحی نے جب یہود کے سامنے اپنے ایلیا ہونے سے انکار کیا تو اس سے مراد حقیقی ایلیا ہونے سے تھا اور بعد میں خود کو راہ درست کرنے والا قرار دے کر ایلیا کے مثیل اور بروز ہونے کا اقرار کیا۔حضرت عیسی علیہ السلام بھی انہیں معنوں میں حضرت بجلی کو - ایلیا کہتے تھے۔یہ گمان دل میں پیدا ہو کہ نزول ایلیا کی پیش گوئی شاید محرف ہو گئی ہو تو یہ خیال حباب بر آب سے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتا۔بے شک بائبل مختلف مقامات سے محرف و مبدل ہے مگر عیسی علیہ السلام نے خود اس کی تصدیق کی اور اسے بر حق قرار دیتے ہوئے اس کی تاویل کی۔اگر یہ پیش گوئی صحیح نہ ہوتی تو سب سے پہلے مسیح علیہ السلام کا یہ حق تھا کہ وہ بجائے اس کی تاویل کے اسے صریح غلط قرار دیتے اور صاف جواب دے دیتے کہ کوئی ایلیا آنے والا نہیں ہے۔صحیح علیہ السلام کا یہودیوں کے اس اعتراض کو مان لینا اور اس کا جواب دینا یوحنا ۲۲۱