ابن مریم — Page 249
۲۵۵ دراصل کیا۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ کے مقابلہ میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! ہم نے تجھے کوثر عطا فصل لربك وانحر پس تو دعائیں مانگ اور قربانیاں پیش کر۔اس کے نتیجہ میں تیرا دشمن بے اولا د رہے گا۔گا۔ہیں۔۔دعاوں اور قربانیوں کی شرط سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اس اولاد سے کوئی ایسا عظیم المرتبت وجود مراد ہے جو روحانیت کے لحاظ سے آپ کی اولاد میں سے ہو دعائیں اور قربانیاں ہی دشمن دین کو ابتر اور ناکام اور نامراد کرتی اور دعاوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہی آپ کے لئے کوثر مقدر تھا لیکن فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر کے نتیجہ میں یہ کہنا کہ دشمن ظاہری اولاد سے محروم ہو جائے گا ، کوئی معقول توجیہہ نہیں پس در حقیقت فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْجَر کے نتیجہ میں آپ کے دشمن کا کمزور ہو جانا ، اس کے سلسلہ کا ختم ہو جاتا اور آپ کے سلسلہ کا ترقیات کی منازل طے کرنا اور پھر ایک ایسے وجود کا پیدا ہونا مراد ہے جو آپ کے فیض سے مستفیض اور آپ کے نور سے کامل طور پر منور ہو کیونکہ آیت إِن شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَر سے یہ واضح ہے کہ دشمن کی نسل منقطع ہو جائے گی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل ہمیشہ قائم رہے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خدا تعالیٰ نے کوثر کی عطا کا وعدہ فرمایا ، اس میں ایک عجیب اور عظیم پیش گوئی ایسی بھی رکھ دی کہ جو اس لفظ کوثر میں ہی مضمر تھی۔کوثر کے ایک معنی الرجل الكثير العطاء والخير۔(اقرب الموارد) ایسا انسان جو بڑا سخی ہو اور بڑی کثرت سے نیکیاں پھیلانے والا ہو۔پس اس آیت میں ایک معطاء یعنی بہت بڑے صدقہ دینے والے اور سخاوت کرنے والے وجود کی پیش گوئی ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بھی ایک ایسے