ابن مریم

by Other Authors

Page 236 of 270

ابن مریم — Page 236

۲۴۰ کہا کہ کاش میں پہلے سے مرجاتا اور ایسا بھولا بسرا ہو جاتا کہ کوئی میرے نام سے واقف نہ ہوتا۔et (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد ۲۲۔صفحہ ۷۵ حاشیہ ) - ” میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا۔اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔فاجاءه المخاض إلى جذع النخلة قال يا ليتني مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا»۔مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جذع النخلة سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولاد مگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ درد انگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہو جانا تھا اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔تب اس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتا اور بھولا بسرا ہو جاتا۔" ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن۔جلد ۲۱۔صفحہ ۶۸ ، ۶۹ حاشیه ) وَهُزَى إِلَيْكِ بجذع النَّخْلَةِ تُسَقِطْ عَلَيْكِ رُطَبَا جَنِيًّا یہ حضرت مریم کو اس وقت وحی ہوئی تھی کہ جب ان کا لڑکا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوا تھا اور وہ کمزور ہوئی تھیں۔اور خدا تعالیٰ نے اسی کتاب براہین احمدیہ میں میرا نام بھی مریم رکھا اور مریم صدیقہ کی طرح مجھے بھی حکم دیا وكن من الصالحين الصديقين»۔دیکھو ۲۴۲ براہین احمدیہ۔بس یہ میری وحی یعنی «هز إليك۔اس