ابن مریم — Page 25
۲۵ کا یہ فیصلہ ، نزول کی پیش گوئی کو کس طرح دو اور دو چار کی طرح واضح کر رہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فیصلہ اس مسئلہ کے لئے روشن دلیل ہے۔سچ کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کی کوئی دلیل بھی ہوتی ہے۔ایک فریق اپنے حق میں ایک برگزیدہ اور نیچے نبی کے فیصلہ کی مثال پیش کرتا ہے اور دوسرا مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کونسا فریق سچائی پر ہے۔پس نزول ایلیا کی پیش گوئی نزول کی پیش گوئی سے عظیم مشابہت رکھتی ہے۔مامور زمانہ نے فرمایا >> بھلا بتلاؤ کہ آپ لوگوں کے بیان میں جو آخری مسیح موعود کے بارے میں ہے اور یہودیوں کے بیان میں جو اس زمانہ کے مسیح موعود کے بارے میں ہے کیا فرق ہے۔کیا یہ دونوں عقیدے ایک ہی صورت کے نہیں ہیں ؟ پھر اگر تقوی ہے تو اس قدر ہنگامہ محشر کیوں برپا کر ہیں؟۔رکھا ہے۔اور یہودیوں کی وکالت کیوں اختیار کر لی ؟ کیا یہ بھی ضروری تھا کہ جب میں نے اپنے آپ کو مسیح کے رنگ میں ظاہر کیا تو اس طرف سے آپ لوگوں نے جواب دینے کے وقت فی الفور یہودیوں کا رنگ اختیار کر لیا۔بھلا اگر بقول حضرت مسیح ایلیا کے نزول کے یہ معنے ہوئے کہ ایک اور شخص بروزی طور پر اس کی خوبو اور طبیعت پر آئیگا تو پھر آپ کا کیا حق ہے کہ اس نبوی فیصلہ کو نظر انداز کر کے آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اب خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی آجائیگا۔گویا خدا تعالٰی کو ایلیا نبی کے دوبارہ بھیجنے میں تو کوئی کمزوری پیش آگئی تھی۔مگر مسیح کے بھیجنے میں پھر خدائی قوت اس میں عود کر آئی۔کیا اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ بعض آدمی آسمان پر نجمه العنصری جا کر پھر دنیا میں آتے رہے ہیں۔کیونکہ حقیقتیں نظیروں کے ساتھ ہی کھلتی ہیں