ابن مریم

by Other Authors

Page 24 of 270

ابن مریم — Page 24

بھی اس امر کی روشن دلیل ہے وہ بجائے خود اس پیش گوئی کو صحیح اور بر حق سمجھتے تھے۔علاوہ ازیں تمام یہودی اس پیش گوئی کے سچا ہونے پر متفق ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحریف کی کہیں خبر نہیں دی۔قرآن کریم اور احادیث میں اس قصہ کا کچھ بھی ذکر موجود نہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ یہ قرآن وحدیث کے مخالف ہے۔الغرض اس پیش گوئی کی تکذیب کے ہم کسی طرح بھی مجاز نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ آپ آسمان سے ہو کر آئیں تو آپ نے سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولا کہہ کر گویا یہ جواب دیا که بشریت اور رسالت کے ہوتے ہوئے آسمان پر جانا ممکن نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب اور ایلیا نبی کا آسمان سے اترنا کہ آخر وہ اترے تو کس طرح اترے۔کیا اس حقیقت کے سمجھنے کے لئے کافی اور قوی دلیل نہیں کہ اگر ایک بشر آسمان پر نہیں جاسکتا تو آسمان سے اترنے سے بھی حقیقی طور پر اترنا نہیں بلکہ مثالی اور بروزی طور پر اترنا مراد ہے۔اب اگر یہ ضروری ہے کہ عیسیٰ نبی ہی آسمان سے آئے تو اس صورت میں عیسیٰ علیہ السلام بچے نبی نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ اگر آسمان سے واپس آنا سنت اللہ میں داخل ہے تو حضرت الیاس علیہ السلام کیوں واپس نہ آئے اور کیوں حضرت ان کی جگہ یحیٰی علیہ السلام کو الیاس ٹھہرا کر تاویل سے کام لیا گیا۔یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ نے اس فیصلہ سے نصیحت نہ پکڑی جو حضرت مسیح علیہ السلام کی عدالت میں طے پا گیا۔اور ڈگری اس نقطہ نظر کی تائید میں ہوئی کہ ایلیا کی دوبارہ آمد استعارہ کے طور پر ہے۔یعنی حضرت یحیی علیہ السلام کو حضرت الیاس علیہ السلام کا مثیل اور بروز ٹھہرایا گیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام