ابن مریم

by Other Authors

Page 22 of 270

ابن مریم — Page 22

۲۲ آسمان پر گیا ہے دنیا میں نہ آئے۔وہ تو اب تک نہیں آیا۔پھر یہ ریہ شخص اپنے دعوی مسیحیت میں کیونکر سچا ٹھہر سکتا ہے ؟ عیسائیوں کے اس جواب پر کہ ایلیا کے نزول سے یوحنا بن ذکریا کا آنا مراد ہے یعنی ایلیا کی خوبو پر ایک شخص اس کے مثیل کے طور پر ہے جس کا نام یحی ہے نہ یہ کہ حقیقت میں کوئی آسمان سے اترے گا۔یہودی کہتے ہیں کہ ایلیا سے مراد اگر یوحنا یعنی بھی ہوتا تو خدا تعالیٰ ہرگز یہ نہ کہتا کہ خود ایلیا واپس آئے گا بلکہ یہ کہتا کہ اس کا مثیل بیچی آئے گا۔انکار مسیح پر یہودی اس لحاظ سے بھی بظاہر حق بجانب معلوم ہوتے ہیں کہ جب اس تاویل کے بارہ میں حضرت یحی سے وہ پوچھتے ہیں کہ کیا تو ایلیا ہے تو وہ صاف انکار کر دیتے ہیں کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔پہلے یہ مسئلہ یہود کے لئے مصیبت بن گیا۔انہوں نے ایک حقیقت سے انکار کیا مگر ان کے پاس اس کی توجیہہ تو ہے کہ ایلیا آسمان سے نہ آیا اور جس کے بارہ میں کہا گیا کہ یہ ایلیا ہے اس نے بھی انکار کر دیا اور صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔پس یہود کا یہ کہنا کہ ہم قیامت کے دن ملاکی نبی کی کتاب اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھ دیں گے کہ تو نے ایلیا نہ بھیجا اور یوحنا نے بھی ایلیا ہونے سے انکار کر دیا لہذا ہم نے عیسیٰ کو قبول نہ کیا۔ایک لحاظ سے بظاہر درست اور معقول بات ہے۔بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کے اس اجماعی عقیدہ کو تاویل سے خاک میں ملا دیا اور آپ اس کھلی کھلی نص کی تاویل میں منفرد و یکتا ہیں۔کسی نبی ، ولی یا فقہیہ نے ہرگز یہ تاویل نہیں کی کہ ایلیا سے مراد مثیل ایلیا ہے اور تعجب ہے کہ ان کے ملہموں کو بھی یہ الہام نہ ہوا کہ نزول ایلیا کی پیش گوئی مشیل ایلیا کی آمد کے رنگ میں پوری ہوگی۔یوحنا ۲۱۰۱