ابن مریم

by Other Authors

Page 255 of 270

ابن مریم — Page 255

۲۶۱ السلام کے مقام نبوت پر فائز ہونے کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے منافی نہیں۔کیونکہ جس طرح ابراہیم آپ کی زندگی میں نبی تھے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام بھی آپ کی زندگی ہی میں نبی ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک زندہ ہی نہیں بلکہ زندگی بخش بھی ہیں۔آپ کی نبوت قیامت تک ممتد ہے اور آپ کا فیض ہمیشہ کے لئے جاری ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ قال رسول الله الله : بعثت أنا والساعة كهذه من هذه أو كهاتين وقرن بين السبابة والوسطى۔(بخاري، كتاب الطلاق، باب اللعان)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو جوڑا اور لوگوں کو دکھاتے ہوئے فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں۔اس سے یہ اظہار مقصود تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت متصل ہیں۔جس طرح ایک انگلی کے بعد دوسری ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت ہے۔اس سے یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ آپ کے بعد یعنی قیامت میں کسی نبی کی بعثت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہاں تو جزا و سزا کا معاملہ ہے۔لہذا جو نبی بھی پیدا ہو گا وہ قیامت سے قبل یعنی آپ کی زندگی میں ہی ہو گا۔اس کی نبوت آپ کی نبوت کہلائے گی۔وہ آپ کی نبوت کے دائرہ میں ہی ہو گا۔آپ کی شریعت کا متبع اور آپ کا امتی ہو گا۔اس کا نور نبوت آپ کے سراج شریعت سے ورنہ نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مقتبس ہو گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خلوت نبوت عطا کی ہے۔اور مسیح موعود علیہ کا یہی دعوی ہے کہ آپ کی نبوت اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی کا پر تو ہے۔آپ فرماتے ہیں