ابن مریم

by Other Authors

Page 229 of 270

ابن مریم — Page 229

۲۳۳ یعنی برقع اور قناع کی تعبیر یہ ہے کہ یہ عورت کا لباس ہے۔اس میں اشارہ یہ ہے کہ ظہور کمال تک مرد بھی بمنزلہ عورت کے ہوتا ہے۔پس اس میں ہر طالب کو عورت قرار دیا گیا ہے۔اور یہ لطیف استدلال مذکورہ بالا آیات کریمہ۔وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ سے کیا گیا ہے۔کہ بعض ان میں سے صفت آسیہ سے متصف ہوتے ہیں اور بعض مریمی رنگ میں رنگین ہوتے ہیں۔پھر جب ایسا مومن مقام مریمیت سے ترقی کی جانب قدم اٹھاتا ہے تو فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا ☆ کا مصداق بن جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے۔تو وہ مرد مومن جو سلوک کی راہ میں بمنزلہ عورت کے ہوتا ہے معنوی طور پر حاملہ ہو جاتا ہے یعنی مریمی قالب میں عیسوی بچہ تیار ہو جاتا ہے۔پھر ولادت معنوی کا وقت ہوتا ہے جس کو درد زہ کی تکلیف دہ کیفیت سے مناسبت ہوتی ہے۔اور مومن کامل مقام رسالت پر فائز ہو جاتا ہے۔حدیث نبوی ” علماء امتی کا بیاء بنی اسرائیلی اس پر دال ہے۔گو یہ ضروری نہیں کہ اسے رسول کا خطاب دیا جائے۔بہر حال اس مقام پر ایک سالک روحانی لحاظ سے عورت کی صفات سے ترقی کر کے مردانگی کی۔" ہ اس آیت میں حضرت مریم کے ذکر کے ساتھ " ہ " کی ضمیر مذکر استعمال کر کے خدا تعالی نے یہ وضاحت فرما دی کہ یہاں مریم سے مراد مرد مومن ہے جو صفات مریمیہ سے ترقی کر کے صفات عیسوی کا جامہ پہن لیتا کیونکہ اگر یہاں حضرت مریم جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ تھیں ، ان کا ذکر ہوتا تو ضمیر " ہ " کی بجائے " ھا " استعمال ہونی چاہئے تھی جو کہ تانیث کے لئے استعمال ہوتی ہے۔پس یہاں مذکر ضمیر استعمال میں لا کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہاں کلام تمثیلی ہے۔ہے۔