ابن مریم — Page 159
خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور باز نہیں آئے گاجب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دے۔اور ہم حقیقت کو ننگا کر دیں گے۔اس دن مومن خوش ہوں گے۔اس پیش گوئی کے علاوہ مقدمہ سے تین دن پہلے یعنی ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ ء کو جب کہ پادری اپنا خوفناک منصوبہ تیار کرنے میں مصروف تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس ابتلاء کی خبر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں اس نشان کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کوئی نقصان کیا ہے بلکہ وہ ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے۔اور میں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام بوا ما هذا إلا تهديد الحكام یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے ڈرانے کی کاروائی ہو گی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پھر بعد اس کے الہام ہوا ترجمہ: مومنوں پر ایک ابتلاء آیا۔یعنی بوجہ اس مقدمہ کے تمہاری جماعت امتحان میں پڑے گی۔" قد ابتلى المؤمنون۔اس سے متعلق دوسرے الہامات کا ذکر کر کے فرماتے ہیں: " پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص