ابن مریم — Page 7
قرآن شریف میں کہیں ذکر نہیں اور کسی مرفوع متصل حدیث سے بھی پتہ نہیں لگتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم عصری آسمان پر چلے گئے تھے۔اگر وہ آسمان پر گئے ہی نہیں تو آسمان سے اتریں گے کیسے ؟ البتہ یہ ذکر موجود ہے کہ مسیح کے نام پر ایک شخص آنے والا ہے جو اسی امت میں سے ہو گا۔و إمامكم منكم اور صحیح مسلم میں ہے فأمكم منكم لے مگر یہ کہیں ذکر نہیں کہ وہ آسمان پر گیا تھا اور پھر آسمان سے واپس آئے گا۔اگر آسمان سے واپس آنے کا ذکر ہوتا تو اس کے لئے رجوع " کا لفظ ہونا چاہئے تھانہ کہ ” نزول " کا۔کیونکہ جانے کے بعد جو شخص واپس آئے اس کے لئے لفظ ” آنا " استعمال ہوتا ہے و اترنا " نہیں۔وو حقیقت یہ ہے کہ جب غلط فہمی کی بناء پر " نزول " سے اتر نامراد لے لیا گیا تو پھر اس کی مناسبت سے آسمان کا لفظ اپنی طرف سے زائد کر لیا گیا اور ردائے ذہن پر اس عقیدہ کے نقوش مرتسم ہو گئے کہ مسیح بجسد خاکی آسمان سے اترے گا۔حالانکہ کتب احادیث کی ورق گردانی اس نتیجہ پر پہنچاتی ہے کہ کسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ موجود نہیں۔علاوہ ازیں کسی معزز و محترم شخص کی آمد کا ذکر بیان ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں جگہ اترا ہے۔یا مثلاً محاورہ ہے کہ آپ کہاں اترے ہیں۔لیکن اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ آسمان سے زمین کی کس جگہ پر اترے ہیں۔اسی طرح عربی میں مسافر کو " نزیل " کہا جاتا ہے اور راہ میں مسافروں کے اترنے (قیام) کی جگہ کو " منزل " کہا جاتا ہے۔تمام احادیث اس امر میں قرآن کریم کی موافقت کرتی ہیں اور ایک بھی حدیث سے (بخاری، کتاب بدأ الخلق باب نزول عيسى) کے (مسلم کتاب الایمان)