ابنِ سلطانُ القلم — Page 54
ابن سلطان القلم ~ 54 ~ ”حضرت اقدس کا وصال ہو گیا اور احمدی دنیا اور دوسرے لوگ یہی سمجھتے رہے کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب احمدیت کے قائل نہیں لیکن خدائے علیم و بصیر ان کے دل کی حالت کو جانتا تھا کہ وہ نہ صرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جسمانی بیٹے ہیں بلکہ ان کے روحانی فرزند ہونے کا بھی مقام حاصل ہے جو اس لطف خداوندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے وصال کے روز آپ کو ”ماتم پرسی“ کے الہام سے نوازا اور پ کے قلب میں اس کی یہ تعبیر ڈالی گئی کہ والد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔لہذا آپ اس یقین کے ساتھ تمام روکوں کو دور کر کے اپنے دورہ کے مقام سے قادیان روانہ ہو گئے اور حضرت اقدس کے جنازہ میں شامل ہوئے۔جنازہ کے بعد: 166 ہفت روزہ ”البدر“ نے ۴ جون ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں تحریر کیا: حضرت صاحب کے بڑے لڑکے مرزا سلطان احمد صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بھی جنازہ پر پہنچ گئے تھے اور نماز جنازہ میں اور تدفین میں شامل ہوئے اور بعد اس کے کہ وہ حضرت ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور بہ ادب تمام سلام کر کے عرض کی کہ میری بعض ذاتی غلطیاں تھیں جن کی وجہ سے میں پیچھے رہا ،، ورنہ میں نے کبھی حضرت کی مخالفت نہیں کی تھی۔“ الفضل قادیان مورخہ ۷ / جولائی ۱۹۳۱ء ۲ اخبار البدر“ قادیان مورخہ ۴ / جون ۱۹۰۸ء، صفحہ ۷