ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 28 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 28

ابن سلطان القلم ~ 28 ~ سے پوچھا کہ حضرت صاحب نے متبنی کی صورت کس طرح منظور فرمالی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا: یہ تو یونہی ایک بات تھی ورنہ وفات کے بعد متبنیٰ کیسا!؟ اسی حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ کا ایک جامع بیان یہاں نقل کر دینا خالی از فائدہ نہ ہو گا۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے بھائی چونکہ لا ولد فوت ہوئے تھے اس لیے ان کے وارث بھی آپ ہی تھے ، لیکن اس وقت بھی آپ نے ان کی بیوہ کی دلدہی کے لیے جائیداد پر قبضہ نہ کیا اور ان کی درخواست پر نصف حصہ تو مرزا سلطان احمد صاحب کے نام پر لکھ دیا، جنھیں آپ کی بھاوج نے رسمی طور پر متبنی قرار دیا تھا۔آپ نے تبنیت کے سوال پر تو صاف لکھ دیا کہ اسلام میں جائز نہیں، لیکن مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوہ کی دلد ہی اور خبر گیری کے لیے اپنی جائیداد کا نصف حصہ بخوشی خاطر دے دیا اور باقی نصف پر بھی خود قبضہ نہ کیا، بلکہ مدت تک آپ کے رشتہ داروں ہی کے قبضے میں رہا۔قادر آباد اور احمد آباد: ،، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں: ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے دادا صاحب کے دولڑکے تھے ایک حضرت صاحب جن کا نام مرزا غلام احمد تھا اور دوسرے ہمارے تایا مرزا غلام ا سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۱۶،۱۷ ۲ سیرت حضرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد ۳، صفحہ ۳۴۸